اس کے حضور قلب میںتفرق ڈال رہاہے۔ وہ ان سے کہیں کا کہیں پہنچ جاتا ہے۔ پریشان ہوتا ہے۔ ہر چند حضور وذوق کے لئے لڑتا مرتا ہے، لیکن نماز جو گری پڑتی ہے، بڑی جان کنی سے اسے کھڑا کرنے کی فکر میں ہے۔ بار بار اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنَ کہہ کر نماز کے قائم کرنے کے لئے دعا مانگتا ہے اور ایسے صراط المستقیم کی ہدایت چاہتا ہے جس سے اس کی نماز کھڑی ہو جائے۔ان وساوس کے مقابل میں متقی ایک بچہ کی طرح ہے، جو خدا کے آگے گڑ گڑاتا ہے۔ روتا ہے اور کہتا ہے کہ میں اَخْلَدَ اِلَی الْاَرْضِ(الاعراف:۱۷۷)ہورہاہوں۔ سویہی وہ جنگ ہے جو متقی کو نماز میں نفس کے ساتھ کرنی ہوتی ہے اور اسی پر ثواب مترتب ہو گا۔
بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نماز میں وساوس کو فی الفور دور کرنا چاہتے ہیں ؛حالانکہ وہ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کی منشاء کچھ اور ہے کیا خدا نہیں جانتا؟حضرت شیخ عبد القادر جیلانی (رحمۃ اللہ علیہ)کو قول ہے کہ ثواب اس وقت تک جب تک مجاہدات ہیں اور جب مجاہدات ختم ہوئے، تو ثواب ساقط ہو جاتا ہے۔ گویا صوم الصلوۃ اس وقت تک اعمال ہین جب تک ایک جدوجہد سے وساوس کا مقابلہ ہے، لیکن جب ان میں ایک اعلیٰ درجہ پیدا ہو گیا اور صاحب صوم و صلوۃ تقویٰ کے تکلف سے بچ کر صلاحیت رنگین ہو گیا، تو اب صوم صلوۃ اعمال نہیں رہے۔ اس موقع پر انہوں نے سول کیا کہ کیا اب نماز معاف ہو جاتی ہے ؟کیونکہ ثوب تو اس وقت تھا جس وقت تک تکلف کرنا پڑتا تھا۔ سو بات یہ ہے کہ نماز اب عمل نہیں بلکہ ایک انعام ہے ۔یہ نماز اس کی ایک غذا ہے، جو اس کے لئے قرۃ العین ہے۔ یہ گویا نقد بہشت ہے۔
مقابل میں وہ لوگ جو مجاہدات میں ہیں ۔وہ کشتی کر رہے ہیں۔ اور یہ نجات پا چکا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا سلوک جب ختم ہوا، تو اس کے مسائب بھی ختم ہو گئے۔ مثلاً ایک مخنث اگر یہ کہے کہ وہ کبھی کسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا، تو وہ کونسی نعمت یا ثواب کو مستحق ہے ۔اس میںتو صفت بد نظری ہے ہی نہیں لیکن اگر ایک مرد صاحب رجولیت ایسا کرے تو ثواب پائے گا۔ اسی طرح انسان کو ہزاروں مقامات طے کرنے پڑتے ہیں۔ بعض بعض امور میں اس کی مشاقی اس کو قادر کر دیتی ہے۔ نفس کے ساتھ اس کی مصالحت ہو گئی۔ اب وہ ایک بہشت میں ہے ،لیکن وہ پہلا سا ثواب نہیں رہے گا۔ وہ ایک تجارت کر چکا ہے۔ جس کا وہ نفع اٹھا رہا ہے، لیکن پہلا رنگ نہ رہے گا۔ انسان میں ایک فعل تکلف سے کرت کرتے طبعیت کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے ۔ایک شخص جو طبعی طور سے لذت پاتا ہے ،وہ اس مقابل نہیں رہتا کہ اس کام سے ہٹایا جاوے۔ وہ طبعاً یہاں سے ہٹ نہیں ہو سکتا۔ سو اتق ا اور تقویٰ کی حد تک پورا انکشاف نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک قسم کا دعویٰ ہے۔
انفاق من رزق اللہ
اس کے بعد متقی کی شان میں وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ (لبقرہ:۴) آیا ہے۔ یہاں متقی کے لئے مما کا لفظ استعمال کیا ،کیونکہ اس وقت وہ ایک اعمیٰ کی حالت