تو پھر کیا اس وقت ایسے مجدد کی ضرورت نہ تھی جو کسر صلیب کرے اور دلائل و بینات سے دکھاوے کہ صلیبی مذہب میں حقانیت کا نور نہیں۔اور ایک لکڑی پر ایمان لا کر انسان نجات کا وارث نہیں ٹھہر سکتا۔آئے دن پچاس ہزار اور ایک لاکھ اشتہار چھاپ کر چھاپ کر یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں اور ٹڈی دل کی طرح عورتیں بچے جوان اور بوڑھے لگے ہوئے ہیں کہ کسی طرح اسلام پر حملہ کریں۔اس وقت اسلام پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی انتہا نہیں۔ادھر خدا کا یہ وعدہ کہ انا لہ لحافظون(الحجر:۱۰) اور ادھر اننا عاقبت اندیش معترضین کی یہ دانا ئی کہ اسلام میں حفاظت دین کے لئے معرفت کا نور کر کوئی نہیں آیا،بلکہ دجال آیا ہے۔ افسوس!صد افسوس!!آہ!صد آہ! یہی تو وقت تھا کہ خدا اپنی نصرت اور تائید کا روشن ہاتھ دکھاتا ۔مگر میں کہتا ہوں کہ اس نے دکھایا اور وہ اپنی چمکار دکھائے گا اور مخالفوں کو شرمندہ کر کے بتلا دے گا،کہ آکر بنانے والے نے کیا بنایا۔‘‘ ؎۱ ۲۱اپریل۱۸۹۹؁ء ستاری خدا تعالیٰ کی ستاری ایسی ہے کہ وہ انسان کے گناہوں اور خطاوں کو دیکھتا ہے،لیکن اپنی اس صفت کے باعث اس کی غلط کاریوں کو اس وقت تک جب تک وہ اعتدال کی حد سے نہ گزر جاوے ڈھانپتا ہے،لیکن انسان کسی دوسرے کی غلطی دیکھتا بھی نہیں اور شور مچاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان کم ھاصلہ ہے اور خدا تعالیٰ کی ذات حلیم وکریم ہے۔طالم انسان اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھتا ہے اور کبھی کبھی خدا تعالیٰ کے حلم پر پوری اطلاع نہ رکھنے کے باعث بے باک ہو جاتا ہے اس وقت ذو انتقام کی صفت کام آتی ہے اور پھر اسے پکڑ لیتی ہے۔ہندو لوگ کہا کرتے ہیں کہ پر میشر اورات میں ویر ہے۔یعنی خدا حد سے برھی ہوئی بات کو عزیز نہیں رکھتا۔با اینہمہ بھی وہ ایسا رحیم کریم ہے کہ ایسی حالت میں بھی اگر انسان نہایت خشوع خضوع کے ساتھ آستان الہی پر جا گرے،تو وہ رحم کے ساتھ اس پر نظر رکھتا ہے۔غرض یہ ہے کہ جیسے اللہ تعالیٰ ہماری خطاوں پر معاً نظر نہیں کرتا اور اپنی ستاری کے طفیل رسوا نہیں کرتا،تو ہم کو بھی چاہیے کہ ہر ایسی بات پر جو کسی دوسرے کی رسوئی یا ذلت پر مبنی ہو۔فی الفور منہ نہ کھولیں۔ غفلت کا علاج استغفار ہے بعض لوگوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ ان کو ایسے اسباب پیش آجاتے ہیں مثلاً ملازمت یا کوئی اور وجہ کہ ان کی عمر کا ایک بڑا حصہ ظلمانی حالت میں گزر جاتا ہے۔نہ پابندی نماز کی طرف توجہ کرتے ہیں،نہ قال اللہ اور قال لرسول سننے