کہ توبہ استغفار میں لگا رہے اور دیکھتا رہے کہ ایسا نہ ہو،بد اعمالیاں حد سے گزر جاویں اور خدا تعالیٰ کے غضب کو کھینچ لاویں۔ توبہ و استغفار جب خدا تعالیٰ کسی پر فضل کے ساتھ نگاہ کرتا ہے،تو عام طور پر دلوں میں اس کی محبت کا القاء کر دیتا ہے،لیکن جس وقت انسان کا شر حد سے زیادہ گزر جاتا ہے، اس وقت آسمان پر اس کی مخالفت کا ارادہ ہوتے ہی اللہ تعالٰٰ کے منشا ء کے موافق لوگوں کے دل سخت ہوتے جاتے ہیں،لیکن جونہی وہ توبہ استغفار کے ساتھ خدا کے آستانہ پر گر کر پناہ لیتا ہے،تو اندر ہی اندر ایک رحم پیدا ہوتا جاتا ہے اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتا کہ اس کی محبت کا بیج لوگوں کے دلوں میں بو دیا جاتا ہے۔غرض توبہ استغفار ایسا محرب نسخہ ہے کہ خطا نہیں جاتا۔ ؎۱ ۲۱ اپریل۱۸۹۹؁ء قبل مغرب مسیح موعود کا کارنامہ کسر صلیب یہ کتاب جو لکھی گئی ہے،جب شائع ہو گی،تو ان لوگوں کو بھی پتہ لگ جاوے گا جو بار بار اعتراض کرتے ہیں کہ  آکر کیا بنایا؟میں حیران ہو جاتا ہوں جب اس قسم کے اعتراض سنتا ہوں۔کیا پھونک مار کر کچھ بنا دیا جاتا ہے؟مگر یہ لوگ دیکھیں گے اور خدا تعالیٰ نمایاں طور پر دکھائے گا کہ کیا بنایا ہے۔کاش یہ لوگ موجودہ حالت وقت پر غور کرتے۔صدی میں سے سولہ سال گذر گئے۔ظلمت انتہا تک پہنچ گئی اور کوئی نہ آیا۔جو اصلاح کرتا۔یہ لوگ ذرا بھی انصاف نہیں کرتے۔مجھ پر اعتراض کرتے کرتے خدا پر اعتراض کر جاتے ہیں۔کیونکہ میں نے تو آکر کچھ بنایا ہی نہں اور خدا نے بنانے والا بھیجا نہیں،بلکہ باوجود اس کے کہ اور ضرورتیں اگر چھوڑ بھی دی جاویں تو ان عاقبت اندیش معترضوں کے موافق ایک گمراہ کرنے والا بھی آگیا اور پھر بھی وہ اصل مہدی نہ آیا اور نہ خدا نے اسے بھیجا ۔چودھویں صدی کو مبارک سمجھتے تھے پر کیا خاک مبارک نکلی ،جب ایک دجال آگیا!!!صدیق حسن اور عبد الحیی جو دعویٰ کرنے والے تھے وہ صدی کے سر پر ہی فوت ہو گئے؛ورنہ شاید وہی ان لوگوں کا سہارا ہوتے،لیکن خدا نے اپنے فضل سے دکھا دیا کہ یہ کام ان کا نہ تھا بلکہ کسی اور کا ۔ مجدد جو آیا کرتا ہے،وہ ضرورت وقت کے لحاظ سے آیا کرتا ہے نہ استنجے اور وضو کے مسائل بتانے۔خدا جو مدبر اور حکیم خدا ہے،کیا وہ نہیں دیکھتا کہ دنیا پر طبعیات اور فلسفہ کی زہریلی ہوا چلی ہے جس نے ہزار ہا انسانوں کو ہلاک کر دیا ہے۔صلیب پرست عیسائیوں نے کس کس رنگ میں لکھو کھہاروحوں کو خدا سے دور پھینک دیا ہے۔