کے ساتھ نہیں ملی؛چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت عمر ان سے ملنے گئے،تو اویس نے فرمایا کہ والدہ کی خدمت میں مصروف رہتا ہوں اور میرے اونٹوں کو فرشتے چرایا کرتے ہیں۔ایک تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے والدہ کی خدمت میں اس قدر سعی کی اور پھر یہ قبولیت اور عزت پائی۔ایک وہ ہے جو پیسہ پیسہ کے لئے مقدمات کرتے ہیں اور والدہ کا نام ایسی بری طرح لیتے ہیں کہ رذیل قومیں چوہڑے کمہار بھی کم لیتے ہوں گے۔ہماری تعلیم کیا ہے؟صرف اللہ اور رسول پاک کی پاک تعلیم کا بتلا دینا ہے۔اگر کوئی میرے ساتھ تعلق قائم کر کے اس کو ماننا نہیں چاہتا،تو وہ ہماری جماعت میں کیوں داخل ہوتا ہے؟ایسے نمونے سے دوسروں کوٹھوکر لگتی ہے اور وہ اعتراض کرتے ہیں کہ ایسے لوگ ہیں جو ماں باپ تک کی بھی عزت نہیں کرتے۔ مادر پدر آزاد کبھی خیرو برکت کا منہ نہ دیکھیں گے میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ مادر پدر آزاد کبھی بھی خیرو برکت کا منہ نہیں  دیکھیں گے۔پس نیک نیتی کے ساتھ اور پوری اطاعت اور وفاداری کے رنگ میں خدا رسول کے فرمودہ پر عمل کرنے کو تیار ہو جاو ۔بہتری اسی میں ہے؛ورنہ اختیار ہے۔ہمارا کام صرف نصیحت کرنا ہے۔ عربی اور انگریزی سیکھنے کی تلقین میں یہ بھی اپنی جماعت کو نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ وہ عربی زبان سیکھیں کیونکہ عربی کی تعلیم کی بدوں قرآن  کریم کا مزا نہیں آتا۔پس ترجمہ پڑھنے کے لئے ضروری اور مناسب ہے کہ تھوڑا تھوڑا عربی زبان کو سیکھنے کی کوشش کریں۔آجکل تو آسان آسان طریق عربی کے پڑھنے کے لئے نکل آئے ہیں۔قرآن شریف کا پڑھنا جبکہ ہر مسلمان کا فرض ہے تو کیا اس کے معنے یہ ہیں کہ عربی زبان سیکھنے کی کوشش نہ کی جاوے اور ساری عمر انگریزی اور دوسری زبانوں کے حاصل کرنے میں کھو دی جاوے۔ہاں یہ بات بھی یاد رکھو کہ چونکہ استحکام گورنمنٹ نے ایک قومی گورنمنٹ کی صورت اختیار کر لی ہے اس لئے قومی گورنمنٹ کی زبان بھی ایک قومیت کا رنگ رکھتی ہے۔پس ضروری ہے کہ اپنے مطالب واغراض کو حکام پر پورے طور سے ذہن نشین کرنے کے لئے انگریزی پڑھو،تاکہ گورنمنٹ کو فائدہ اور مدد پہنچا سکو۔‘‘ فونو گراف پھر زبانوں کے تذکرے پر فرمایا: ’’فونو گراف کیا ہے؟گویا مطبع ناطق ہے۔‘‘ تکلیف کی دوحیثیتیں کوئی تکلیف نہیں پہنچتی جب تک آسمان پر فتویٰ نہ ہو؛اگرچہ تکالیف تو پیغمبروں کو بھی پہنچتی ہے،مگر وہ از راہ محبت ہوتی ہے  اور ان میں ایک قسم کی تعلیم مخفی ہوتی ہے،ا جو ان مشکلات میں انبیاء علیھم السلام کا پاک گروہ اپنے طرز عمل اور چال چلن سے دیتا ہے اور بعض لوگوں پر دکھ کی مار ہوتی ہے اور وہ ان کی اپنی ہی کرتوتوں کا نتیجہ ہے۔من یعمل مثقال ذرۃ شرایراہ(الزلزال:۹) پس آدمی کو لازم ہے