کا یہی علاج ہے۔
حقیقی علم علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور اس سے خشیت الہی
پیدا ہوتی ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء(فاطر ۲۹)اگر علم سے اللہ تعالٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوئی،تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔ ؎۱
۲۰اپریل۱۸۹۹ء بوقت عصر
خدا کا بھروسہ ’’اسلام کا خاصہ ہے کہ خداتعالیٰ پر بھروسہ ہوتا ہے۔مسلمان وہی ہے جو صدقات اور دعا کا قائل ہو۔عیسائیوں کو اس بات پر یقین نہیں۔ کیوں؟
انہوں نے جسمانی خدا بنایا ہے۔انسان کی بڑی خوشی جو زوال پذیر نہیں ہوتی،اور خطرات کے وقت اسے سنبھال لیتی ہے۔وہ خدا پر بھروسہ ہے۔اور یہ صرف اسلام ہی کی تعلیم ہے کہ خدا پر بھروسہ کرو۔‘‘ ؎۲
۲۱اپریل۱۸۹۹ء یوم عید الضحیٰ۔
والدہ کی خدمت ’’پہلی حالت انسان کی نیک بختی کی ہے کہ وہ والدہ کی عزت کرے۔اویس قرنی کے لئے بسا اوقات رسول اکرم ﷺ یمن کی طرف
منہ کر کے کہا کرتے تھے کہ مجھے یمن کی طرف سے خدا کی خوشبو آتی ہے۔آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ وہ اپنی والدہ کی فرمانبرداری میں مصروف رہتا ہے اور اسی وجہ سے میرے پاس بھی نہیں آسکتا۔بظاہر یہ بات ایسی ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ والہ وسلم موجود ہیں،مگر وہ ان کی زیارت نہیں کر سکتے۔صرف اپنی والدہ کی خدمت گزاریاور فرمانبرداری میں پوری مصروفیت کی وجہ سے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ حجور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دو ہی آدمیوں کو السلام علیکم کی خصوصیت سے وصیت فرمائی۔یا اویس کو یا مسیح کو۔یہ ایک عجیب بات ہے،جو دوسرے لوگوں کو ایک خصوصیت