۲۶فروری۱۸۹۹؁ء حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ایک لیکچر کی تعریف حضرت مولانہ عبد الکریم صاحب سیالکوٹیؓ کے  لیکچر(موسومہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا اصلاح اور تجدید کی)کو حضرت اقدس ؑ نے پڑھا اور ۲۶فروری۱۸۹۹؁ء کو مسجد مبارک میں احباب سے فرمایا: ’’میں چاہتا ہوں کہ اسے ہمارے سب دوست ضرور پڑھیں۔اس لئے کہ اس میں بہت سے نکات لطیفہ ہیں اور یہ نمونہ ہے ایک شخص کی قوت تقریر کا اور اسی منوال پرمخصوصاًہماری جماعت کو مقرر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔‘‘ ؎ ۱ ۱۰مارچ۱۸۹۹؁ء بلند ہمتی اور شجاعت صبح سیر کو جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا: ’’ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ہمت اخلاق فاضلہ میں سے ہے اور مومن بڑا بلند ہمت ہوتا ہے اور اسے ہر وقت خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت اور تائید کے لئے تیار رہنا چاہیے اور کبھی بزدلی ظاہر نہیں کرنی چاہیے۔بزدل منافق کا نشان ہے۔مومن دلیر اور شجاع ہوتا ہے،مگر شجاعت سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس میں موقعہ شناسی نہ ہو۔موقعہ شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے۔وہ تہور ہوتا ہے۔مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی،بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اورتحمل کے ساتھ نصرت دین کے لئے تیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا ۔انسان سے کبھی ایسا فعل سرزد ہو جاتا ہے جو خدا تعالیٰ کوناراض کر دیتا ہے اور کبھی خوش کر دیتا ہے۔مثلاً اگر کسی سائل کو دھکا دیا تو وہ سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دینے والا فعل ہوتا ہے،اس لئے اسے توفیق نہ ملے گی کہ وہ اسے کچھ دے سکے،لیکن اگر اس سے نرمی اور اخلاق سے پیش آئے گا،تو خواہ اسے پانی کا پیالہ ہی دے دے،تو ہو بھی ازالہ قبض کا موجب ہو جائے گا۔ استغفار۔قبض کا علاج انسان پر قبض اور بسط کی حالت آتی رہتی ہے۔بسط کی حالت میں ذوق اور شوق بڑھ جاتا ہے اور قلب میں ایک انشراح پیدا ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ بڑھ جاتی ہے۔نمازوں میں لذت اور سرور پیدا ہوتا ہے،لیکن بعض وقت ایسی حالت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔کہ وہ ذوق اور شوق جاتا رہتا ہے اور دل میں ایک تنگی کی حالت ہو جاتی ہے۔جب ایسی حالت ہو جائے تو اس کا علاج یہ ہے کہ کثرت کے ساتھ استغفار کرے اور پھر درود شریف بھی پڑھے۔نماز بھی بار بار پڑھے۔قبج کے دور ہونے