جو ان لوگوں میں خداداد ہوتا ہے، فرمایاکہ ’’اچھا آپ نے چونکہ دعوت کی ہے ہم یہ نذر بھی لے لیتے ہیں۔‘‘ استقلال کھانا کھاچکنے کے بعد ایک سفید ریش شخص کی بابت عرض کیا گیا کہ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔حضرت اقدس ؑ نے نہایت فراخدلی سے فرمایا’’ ہاں‘‘ چنانچہ وُہ شخص پیش ہوا  اور اس نے اپنی درخواست منظوم پیش کی۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ ’’استقلال سے اگر طبیب کاعلاج کیاجاوے وہ بہت مہربان ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ فائدہ بھی دیتا ہے۔‘‘ سفر میں روزہ آپ ؐ سے دریافت کیا گیا کہ سفر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟آپؐ نے فرمایا کہ: ’’قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فمن کان منکم مریضاً اوعلی سفر فعدۃ من ایام اخر(سورۃ بقرہ:۱۸۵)یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے۔اس میں امر ہے۔یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایاکہ جس کا اختیار ہو رکھ لے،جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے اور چونکہ عام طور پر اکثر لوگ رکھ لیتے ہیں،اس لئے اگر کوئی تعامل سمجھ کر رکھ لے،تو کوئی حرج نہیں،مگر عدۃمن ایام اخر کا پھر بھی لحاظ رکھنا چاہیے۔‘‘ اس پر مولانہ نور الدین صاحبؓ نے فرمایا کہ’’یوں بھی توانسان کو مہینے میں کچھ روزے رکھنے چاہئیں۔‘‘ ہم اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ ایک موقع پر حضرت اقدس نے بھی فرمایا’’سفر میں تکالیف اٹھا کر انسان جو روزہ رکھتا ہے تو گویا اپنے زور بازو سے اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے۔اس کو اطاعت امر سے خوش نہیں کرنا چاہتا۔یہ غلطی ہے۔اللہ تعالیٰ کی اطاعت امر اور نہی میں سچا ایمان ہے۔‘‘  ۲۷ جنوری۱۸۹۹؁ء بعد نماز صبح روانگی کا حکم ہوا۔جب کارخانہ(دھاریوال)کے قریب سے گزرے،تو اس کے متعلق ذکر میں فرمایا: ’’اس کو کسی قوت دیکھنا چاہیے۔دیکھی ہوئی چیز کچھ کام ہی دیتی ہے۔‘‘ ایک شخص نے کہا کہ حضرت میں نے ایک بار دیکھا،تو مجھے خدا تعالیٰ کی قدرت پر عجب جوش آیا اور جبتک میں نے چار رکعت نماز نہ پڑھ لی صبر نہ آیا۔حضرت نے فرمایا: ’’اصل بات یہ ہے کہ میں نے یہ ساری باتیں اس لئے ہیں کہ وہ اپنا جلوہ دکھا رہا ہے،دیکھو کپڑے تک کو کس قدر طاقتیں دیں ہیںاور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تو ساری طاقتیں اور قوتیں ہیں۔‘‘ حضور کے لئے خیمہ چونکہ نہر پر لگایا گیا تھا۔نہر کو دیکھ کر اور اس کے ارد گرد درختوں کو دیکھ کر فرمایا۔’’بہت اچھی جگہ ہے۔‘‘