دُعا کی برکات ’’اگردُعا نہ ہوتی، تو کوئی انسنا خداشناسی کے بارے میں حق الیقین تک نہ پہنچ سکتا۔ دُعا سے الہام ملتا ہے۔ دُعا سے ہم خداتعالیٰ سے کلام کرتے ہیں۔
جب انسان اخلاص ور توحید اور محبت اور صدق اور صفاکے قدم سے دُعاکرتا کرتا فنا کی حالت تک پہنچ جاتا ہے۔ تب وُہ زندہ خدا اس پر ظاہر ہوتا ہے، جو لوگوں سے پوشیدہ ہے۔‘‘
مُبارک وہ جو سمجھے ’’خدا سے صُلح کرو۔ سچی پرہیزگاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معلولی حوادث سے ڈرارہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کررہی ہے۔مبارک
وُہ جو سمجھے۔۱؎ (حضرت مسیح موعود ؑ)
۲۶؍جنوری ۱۸۹۹ء
ایڈیٹرصاحب اخبارالحکم لکھتے ہیں۔ جب لیل (دھاریوال کے پا س ایک گائوں ہے) جہاں حضرت اقدس ؑ نے بغرض پیروی مقدمہ ضمانت برائے حفظِ امن منجانب مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی، دھاریوال تشریف لے جاتے ہوئے قیام فرمایا تھا۔(مرتب) سے روانہ ہوکر کھنڈہ(جہاں حضرت اقدس ؑ تشریف فرماتے تھے۔(مرتب)آپہنچے۔ تو حضر ت اقدس ؑ نے فرمایا کہ:
’’اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں مصلحت ہے ۔ چونکہ سُنایا گیا کہ محمدحسین بھی وہیں اُترنے والا تھا۔ اس لیے اچھا ہوا کہ ہم وہاں نہیں ٹھہرے۔ ایسے لوگوں سے دُور ہی رہنا اچھا ہے۔‘‘
ّنوٹ از مرتب) تبدیلِ فردوگاہ کا باعث یہ ہوا کہ حضرت اقدس ؑ بسواری پالکی روانہ ہوئے تھے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب ؒ۔ اور چند اور دوست بٹالہ کے راستہ سے گاڑی پرسوار ہوئے تھے اور یہ امر مقررشدہ تھا کہ مقامِ نزول لیل ہی ہوگا، مگر حضرتِ اقدس ؑ کو راستہ میں رانی ایشرکور(سکنہ دھام ۔ سردار جیمل سنگھ کی بیوہ بہو) کا خاص آدمی پیغام لے کر ملا کہ آپؑ میرے ہاں قیام فرماویں؛ چنانچہ حضرتِ اقدس ؑ نے اس کا پیغام منظورفرمالیا اور وہیں قیام فرماہوئے، مگر گاڑی والے دوستوں کو اطلاع نہ ہوئی، اس لیے وہ لیل ہی پہنچے۔ بعد میں حضرتِ اقدس ؑ کے بُلوانے پر سب وہیں اکٹھے ہوگئے۔)
غیرمسلم کی دعوت اور نذر تھوڑی دیر کے بعدرانی ایشر کور نے اپنے اہلکاروں کے ہاتھ ایک تال مصری کا اور ایک باداموں کا بطور نذر پیش کیا اور کہلابھیجا،
بری مہربانی فرمائی۔ میرے واسطے آپ ؑ کا تشریف لانا ایسا ہے، جیسے سردار جیمل سنگھ آنجہانی کا آنا۔ حضرتِ اقدس ؑ نے نہایت سادگی اور اُس لہجہ میں