یادرکھو کہ اُنہوں نے منقولی طور پر چشمۂ نبوت سے کچھ لے کر کہا ہے۔ پس جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ رُوح کے متعلق علوم چشمۂ نبوت سے ملتے ہیں تو یہ امرکہ ارواح کا قبورکے ساتھ تعلق ہوت اہے، اُسی چشم سے دیکھناچاہیے اورکشفی آنکھ نے بتلایا ہے کہ اس تودۂ خاک سے رُوح کا ایک تعلق ہوتا ہے اور السلام علیکم یااھل القبور کہنے سے جواب ملتا ہے۔ پس جو آدمی ان قویٰ سے کام لے جن سے کشفِ قبور ہوسکتا ہے، وہ اُن تعلقات کودیکھ سکتا ہے۔ ہم ایک بات مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور مصری کی ڈلی رکھی ہو۔اب عقل محض ان پر کیا فتویٰ دے سکے گی۔ ہاں اگر اُن کو چکھیں گے، تو جُدا گانہ مزوں سے معلوم ہوجاوے گا کہ یہ نمک ہ اور وہ مصری ہے، لیکن اگر حسِ لِسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا؟ پس ہمارا کام صرف دلائل سے سمجھا دینا ہے۔ آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آسکتا اور ایک مسلوب القوۃ کے طریقِ استدلال سے فائدہ نہ اٹھانے سے اس کا ابطال نہیں ۔ اسی طرح پر اگر کوئی شخص کشفی آنکھ نہیں رکھتا، تو وہ اُس تعلقِ ارواح کو کیونکردیکھ سکتا ہے؟ پس محض اس لیے کہ وُہ دیکھ نہیں سکتا، اس کا انکار جائزنہیں ہے۔ ایسی باتوں کا پتہ نِری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لیے انسان کو مختلف قویٰ دیئے ہیں۔ اگر ایک ہی سب کام دیتا تو پھر اس قدر قویٰ کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے بعض زبان سے متعلق ہیں اور بعض ناک سے مختلف قسم کی حِسیّں انسان رکھتا ہے۔ قبور کے ساتھ تعلقِ ارواح دیکھنے کے لئے کشفی قوت اور حسِ کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، تو وہ غلط کہتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء وصُلحاکا سلسلہ دُنیا میں گذرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بیشمار لوگ ہوگذرے ہیں اور وہ سب اس امرکی زندہ شہادت ہیں۔ گو اس کی اصلیت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کرسکیں یا نہ، مگر نفسِ تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کیے دیتے ہیں۔ کان اگر نہ دیکھ سکیں تو ان کا کیا قصور؟وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ رُوح کا تعلق قبرکے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ انسان میت سے کلام کرسکتاہے رُوح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتاہے،جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔مَیں پھر کہتاہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوئوں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے۔ یہ مسئلہ عام طور پرمسلّمہ مسئلہ ہے۔ بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے رُوح کرتاہے اور یہ امر کہ کس جگہ تعلق ہے کشفی قوت خود ہی بتلادے گی۔ جیالوجسٹ(عالمِ علم طبقات الارض) بتلادیتے ہیں کہ یہاں فلاح دھات ہے اور وہاں فلاں کان ہے۔ دیکھوان میں یہ ایک قوت ہوتی ہے جوفی الفور بتلادیتی ہے۔ پس یہ بات ایک سچی بات ہے کہ ارواح کا تعلق قبورسے ضرور ہوتاہے۔ یہاںتک کہ اہل کشف توجہ سے میت کے ساتھ کلام بھی کرسکتے ہیں اور اوہام اور اعتراضوں کا سلسلہ تو ایسالمباہے کہ ختم ہی نہیں ہوتا۔۱؎