مختلف طریق اور ذریعے رکھے ہیں۔مثلا ً مصری کی ایک ڈلی کو کان پر رکھیں،تو اس کا مزہ معلوم نہیں کر سکیں گے اور نہ اس کے رنگ کو بتلا سکیں گے۔ایسا ہی اگر آنکھ کے سامنے کریں گے،تو وہ اس کے ذائقہ کہ متعلق کچھ نہیں کہہ سکے گی۔اس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے مختلف قویٰ اور طاقتیں ہیں۔اب آنکھ کے متعلق اگر کسی چیز کا ذائقہ معلوم ہو اور وہ آنکھ کے سامنے پیش ہو،تو کیا ہم یہ کہیں گے کہ اس چیز میں کوئی ذائقہ ہی نہیں یا آواز نکلتی ہو اور کان بند کر کے زبان سے وہ کام لینا چاہیں،تو کب ممکن ہے۔آجکل کے فلسفی مزاج لوگوں کو یہ بڑا دھوکہ لگا ہوا ہے کہ وہ اپنے عدم علم کی وجہ سے کسی صداقت کا انکار کر بیٹھتے ہیں۔روز مرہ کے کاموں میں دیکھا جاتا ہے کہ سب کام ایک شخص نہیں کرتا بلکہ جدا گانہ خدمتیں مقرر ہیں۔سقہ پانی لاتا ہے۔دھوبی کپڑے صاف کرتا ہے،اورباورچی کھا نا پکاتا ہے ۔غرضیکہ تقسیم محنت کا سلسلہ ہم انسان کے خود ساختہ نظام میں بھی پاتے ہیں۔پس اس اصل کو یاد رکھیں کہ مختلف قوتوں کے مختلف کام ہیں۔انسان بڑے قوی لے کر آیا ہے اور طرح طرح کی خدمتیں اس کی تکمیل کے لئے ہر ایک قوت کے سپرد ہیں۔نادان فلسفی ہر بات کا فیصلہ اپنی عقلِ خام سے چاہتا ہے ؛ حالانکہ یہ بات غلط محض ہے۔ تاریخی اُمور توتاریخ ہی سے ثابت ہوں گے اور خواص الاشیاء کا تجربہ بدوں تجربۂ صحیحہ کے کیونکر لگ سکے گا۔ امورِ قیاسیہ کا پتہ عقل دے گی۔ اسی طرح پر متفرق طور پر الگ الگ ذرائع ہیں۔ انسان دھوکہ میں مبتلا ہوکر حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے سے تب ہی محروم ہوجاتا ہے جب کہ وہ ایک ہی چیز کو مختلف اُمور کی تکمیل کاذریعہ قراردے لیتاہے۔ مَیں اس اُصول کی صداقت پر زیادہ کہنا ضروری نہیں سمجھتا، کیونکہ ذرا سے فکر سے یہ بات خوب سمجھ میں آجاتی ہے اور روز مرّہ ہم ان باتوں کی سچائی دیکھتے ہیں۔ پس جب رُوح جسم سے مفارقت کرتی ہے یا تعلق پکڑتی ہے، تو ان باتوں کا فیصلہ عقل سے نہیں ہوسکتا۔ اگرایسا ہوتاتوفلسفی اور حکماء ضلالت میں مبتلانہ ہوتے۔
رُوح کے متعلق علوم چشمۂ نبوت سے ملتے ہیں اسی طرح قبور کے ساتھ جو تعلق ارواح کا ہوتا ہے۔ یہ ایک صداقت
تو ہے، مگر اس کا پتہ دینااس آنکھ کا کام نہیں۔یہ کشفی آنکھ کا کام ہے کہ وُہ دکھلاتی ہے۔ اگر محض عقل سے اس کا پتہ لگانا چاہوتو کوئی عقل کا پُتلا اتنا ہی بتلائے کہ رُوح کا وجُود بھی ہے یا نہیں؟ ہزار اختلاف اس مسئلہ پر موجود ہیں اور ہزار ہا فلاسفردہریہ مزاج موجود ہیں جو منکرہیں۔اگر نری عقل کا یہ کام تھا، توپھر اختلاف کاکیا کام؟ ہزار اختلاف کا کیاکام؟ کیونکہ جب آنکھ کا کام دیکھنا ہے، تو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ زید کی آنکھ تو سفید چیز کودیکھے اور بکر کی ویسی ہی آنکھ اس سفید چیز کا ذائقہ بتلائے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ نری عقل روح کا وجودبھی یقینی طور پر نہیں بتلاسکتی؛ چہ جائیکہ اس کی کیفیت اور تعلقات کا علم پیدا کرسکے۔ فلاسفر تو روح کو ایک سبز لکڑی کی طرح مانتے ہیں اور رُوح فی الخارج ان کے نزدیک کوئی چیز ہی نہیں۔ یہ تفاسیررُوح کے وجود اور اس کے تعلق وغیرہ کی چشمۂ نوبت سے ملی ہیں اور نِرے عقل والے تو دعویٰ ہی نہیں کرسکتے ۔ اگرکہو کہ بعض فلاسفروں نے کچھ لکھا ہے تو