بحثوں میں پڑیں۔ خاتم النبین کے معنی ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ نوت کے امور کو آدم علیھم السلام سے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم کیا۔یہ موٹے اور ظاہر معنی ہیں۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہو گئی،اس لئے الیوم اکملت لکم دینکم(المائدہ:۴)کا مصداق اسلام ہوگیا۔غرض یہ نشانات نبوت ہیں۔ان کی کیفیّت اور کنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں۔ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں۔ایمان لانا ضروری ہے۔اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں ۔اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزوی مسائل کا ثبوت دے۔الغرض مہر نبوؔ ت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نبوت میں سے ایک نشان ہے ،جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے۔ ؎ ۱  ۵جنوری ۱۸۹۹ء؁ قبر سے روح کا تعلق (سوال مولوی قطب الدین صاحب)’’روح کا جو تعلق قبور سے بتلایا گیا ہے۔اس کی اصلیت کیا ہے؟‘‘ فرمایا:’’اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ ارواح کے تعلق قبور کے متعلق احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں آیا ہے،وہ بالکل سچ اور درست ہے۔ہاں یہ دوسرا امر ہے کہ اس تعلق کی کیفیت اور کنہ کیا ہے؟جس کو معلوم کرنے کی ہم کو ضرورت نہیں؛البتہ یہ ہمارا فرض ہو سکتا ہے کہ ہم یہ ثابت کر دیں کہ اس قسم کا تعلق قبور کے ساتھ ارواح کا ہوتا ہے اور اس میں کو ئی محال عقلی لازم نہیں آتا۔ اور اس کے لئے ہم اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت میں ایک نظیر پاتے ہیں۔درحقیقت یہ امر اسی قسم کا ہے،جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض امور کی سچائی اور حقیقت صرف زبان ہی سے معلوم ہوتی ہے اور اس کو ذرا وسیع کر کے ہم یوں کہتے ہیں کہ حقائق الاشیاء کے معلوم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقے رکھے ہیں ۔بعض خواص آنکھ کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں اور بعض صداقتوں کا پتہ صرف کان لگاتا ہے اور بعض ایسی ہیں کہ حص مشترک سے ان کا سراغ چلتا ہے اور کتنی ہی سچائیاں ہیں کہ وہ مرکز قویٰ یعنی دل سے معلوم ہوتی ہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے صداقت معلوم کرنے کے لئ