اس قدر صقیل کر دیتے ہیں کہ اخلاق النبی اس میں منعکس ہو جاتے ہیں اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب بہت مجاہدات اور تزکیوں کے بعد اس کے اندر کسی قسم کی قدورت یا کثافت نہ رہے تب یہ درجہ نصیب ہوتا ہے۔ ہر ایک مومن کو ایک حد تک ایسی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کوئی مومن با آئینہ ہونے کے نجات نہ پائے گا۔ سلوک والا خود صقیل کرتا ہے، اپنے کام سے مصائب اٹھاتا ہے ،لیکن جذب والا مصائب میں ڈالا جاتا ہے۔خدا خود اس کا مصقل ہوتا ہے اور طرح طرح کے مسائب وشدائد سے صقیل کر کے اس کو آئینہ کا درجہ عطا کردیتا ہے۔دراصل سالک ومجذوب دونوں کا ایک ہی نتیجہ ہے سو متقی کے دو حصے ہیں ۔سلوک وجذب۔
ایمان بالغیب
تقویٰ جیسا کہ میں بیان کر آیا ہوں، کس قدر تکلف کو چاہتا ہے۔ اس لئے فرمایا کہ: ھُدًی لِلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ(البقرہ:۳،۴)اس میں ایک تکلف ہے ۔مشاہدہ کے مقابل ایمان بالغیب لانا ایک قسم کے تکلف کو چاہتا ہے۔ سو متقی کے لئے ایک حد تک تکلف ہے ،کیونکہ جب وہ صالحہ کا درجہ حاصل کرتا ہے تو پھر غیب اس کے لیے غیب نہیں رہتا ،کیونکہ صالحہ کے اندر سے ایک نہر نکلتی ہے ،جو اس میں سے نکل کر خدا تک پہنچتی ہے۔ وہ خدا اور اس کی محبت کو اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے کہ مَنْ کَانَ فِیْ ھٰذِہٖ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ اَعْمٰی۔(بنی اسرائیل:۷۳)اسی سے ظاہر ہے کہ جب تک انسان پوری روشنی اس جہاں میں نہ حاصل کر لے ۔وہ کبھی خدا کا منہ نہیں دیکھے گا۔ سو متقی کا یہی کام ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے سرمہ تیار کرتا رہے،جس سے اس کا روحانی نزول الماء دور ہو جائے۔ اب اس سے ظاہر ہے کہ متقی شروع میں اندھا ہوتا ہے ۔مختلف کوششوں اور تزکیوں سے وہ نور حاصل کرتا ہے۔ پس جب سوجاکھا گیا اور صالح بن گیا ۔پھر ایمان بالغیب نہ رہا اور تکلف بھی ختم ہوگیا ۔جیسے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمکو برای العین اسی عالم اسی عالم میں بہشت ودوزخ سب کچھ مشاہدہ کرایا گیا ۔جو متقی کو ایک ایمان بالغیب کے رنگ میں ماننا پڑتا ہے ۔وہ تمام آپ کے مشاہدہ میں آگیا ۔اس آیت میں اشارہ ہے کہ متقی اگرچہ اندھا ہے اور تکلف کی تکلیف میں ہے، لیکن صالح ایک دارالامان میں آگیا ہے اور اس کا نفس نفس مطمئنہ ہو گیا ہے ۔متقی اپنے اندر ایمان بالغیب کی کیفیت رکھتا ہے ۔وہ اندھا دھند طریق سے چلتا ہے ۔اس کو کچھ خبر نہیں ہر ایک بات پہ اس کا ایمان بالغیب ہے ۔یہی اس کا صدق ہے اور اس صدق کے مقابل خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ فلاح پائے گا ۔اُوْلٰٓیِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(البقرہ:۶)
اقامت صلوۃ
اس کے بعد متقی کی شان میں آیا ہے۔وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ(البقرہ:۴) یعنی وہ نماز کو کھڑی کرتاہے۔ یہاں لفظ کھڑی کرنے کو آیا ہے ۔یہ بھی اس تکلف کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جو متقی کا خاصہ ہے۔ یعنی جب وہ نماز شروع کرتا ہے۔تو طرح طرح کے وساوس کا اسے مقابلہ ہوتا ہے جن کے باعث اس کی نماز گویا بار بار گری پڑتی ہے،جس کو اس نے کھڑا کردیا ہے جب اس نے اَللّٰہُ اَکْبَرْ کہا تو ایک ہجوم وساوس ہے جو