اسلامی شریعت نے وہ مسائل لئے ہیں جو طبعی اور فطرتی طور پر انسان کے لئے مطلوب ہیں اور جو ہر پہلو سے اس کے قویٰ کی تربیت کرتے ہیں۔ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ہاں!اسلام کے جو اعتراض غیر مذہب پر ہیں وہ ان کا جواب نہیں دے سکتے۔ سعید اور شقی کا چہرہ پس میں پھر کہتا ہوں کہ میری باتوں کو استخفاف اور استہزاء کی نظر سے نہ دیکھیں استہزاء سے کفر کا اندیشہ ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی آیت کا ادب اور  خوف ہونا چاہیے۔ہر ایک عارف ان باتوں کے ہزار ہا جواب دے سکتا ہے۔کیا چہروں میں ایسی علامات نہیں ہوتیں۔جن کو دیکھ کر ہم ایک سعید اور شقی،بد معاش اور خوش اطوار میں تمیز کر سکتے ہیں اور پہچان لیتے ہیں۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے آپ کا منہ دیکھ کر کہا کہ یہ جھوٹوں کا منہ نہیں۔اب وہ کونسا نشان تھا جو جھوٹوں میں ہوتا ہے اور آپ میں نہ تھا۔ایک امتیاز تو تھا جس کو بصیرت والال انسان دیکھ سکتا ہے۔ایسا ابلہ اوراحمق کون ہے،جو نیک اور بد کو چہرہ سے دیکھ کر تمیز نہیں کر سکتا۔مومن کا چہرہ اور ہر عضو اس کو ایک امتیاز بخشتا ہے اور اس کے باخدا ہونے پر دلالت کرتا ہے۔پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مہر نبوت میں ایک خصوصیت ہو تو بتلاو اس سے کیا استبعاد لازم آتا ہے۔سب کچھ ممکن ہے۔ صرف امور ایمانی پر ایمان لانا ضروری ہے بالآخر یہ یاد رکھو کہ یہ ایک فروعی بات ہے۔ہم کو ضرورت نہیں ہے کہ ان باتوں میں پڑیں ۔اصول پر بحث ہونی چاہیے۔اصول کے اثبات پر فرع خود ہی ثابت ہو جاتی ہے ایمان لانا ضروری ہے۔اس کی کیفیت اور کنہ تک پہنچنے کی کوشش کرنا ضروری نہیں۔دشمن اگر گفتگو کرے،تو ہم اس کو روک سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اور اس کی صفات پر،ملائکہ اور اللہ تعالیٰ کی کتابوں اورا نبیاء علیہم السلام وغیرہ امور ایمانی پر ایمان لا نا ضروری ہے اور ان سب باتوں کا ماننا اصول ہے،اور باقی امور ان پر متفرع ہیں اور یہ سب صفائی کے ساتھ ثابت شدہ صداقتیں ہیں۔تعلیم اسلام ایسی صاف ہے کہ ہر قوت کو اعتدال اور عین محل پر رکھتی اور رتبیت کرتی ہے اور یہ عظیم الشان معجزہ ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا۔دوسری تعلیمیں ایسی نہیں ۔کسی کا ناک نہیں تو کسی کے کان نہیں ہیں۔غرض وہ ناقص اور ادھوری ہیں۔مکمل خلقت تعلیم اسلام ہی کی ہے۔توحید،صفات باری تعالیٰ،نبوت اور اخلاق فاضلہ،تکمیل نفس وغیرہ امور جن کا انسان محتاج ہے۔وہ ایسے کامل اور روشن طور پر بیان ہوئے ہیں کہ ان میں زیادہ بحث کی ضرورت نہیں پڑتی۔باقی امور کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کیوں کھاتے تھے؟کتنے بڑے نوالے لیتے تھے۔ان جھگڑوں میں مومن کو پڑنے کی کیا ضرورت ہے؟مدار نجات ان باتوں پر نہیںہے۔ایسی باتیں جو اثر کے طور پر لکھی گئی ہیں۔اگر وہ نبوت حقی کے خلاف نہیں بلکہ مشابہ ہیں تو ایمان لائیں؛ورنہ تاویل کریں۔کچھ ضرورت نہیں کہ اس پر چناں اور چنیں کر کے لمبی اور فضول