تعدد ازدواج کی اجازت مثلاً کثرت ازدواج پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے بہت عورتوں کی اجازت دی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا دلیر اور
مرد میدان معترض ہے جو ہم کو یہ دکھلا سکے کہ قرآن کہتا ہے کہ ضرور ضرور ایک سے زیادہ عورتیں کرو۔ ہاں یہ ایک سچی بات ہے اور بالکل طبعی امر ہے کہ اکثر اوقات انسان کو ضرورت پیش آجاتی ہے کہ وہ ایک سے زیادہعورتیں کرے۔مثلاً عورت اندھی ہو گئی ہے یا اور کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو کر اس قابل ہو گئی کہ خانہ داری کے ماور سر انجام نہیں دے سکتی اور مرد از راہ ہمدردی یہ بھی نہیں چاہتا کہ اسے علیٰحدہ کرے یا رحم کی خطر ناک بیماریوں کا شکار ہو کر مرد کی طبعی ضرورتوں کو پورا نہیں کر سکتی،تو ایسی سورت میں نکاح ثانی کی اجازت نہ ہو،تو بتلاو کہ کیا اس سے بد کاری اور بد اخلاقی کو ترقی نہ ہو گئی؟پھر اگر کوئی مذہب یا شریعت کثرت ازواج کو روکتی ہے،تو یقیناً وہ بد کاری اور بد اخلاقی کی موید ہے،لیکن اسلام جو دنیا سے بد اخلاقی اور بد کاری کو دور کرنا چاہتا ہے،اجازت دیتا ہے کہ ایسی ضرورتوں کے لحاظ سے ایک سے زیادہ بیویان کرے۔ایسا ہی اولاد کے نہ ہونے پر جبکہ لا ولد کے پس مرگ خاندان میں بہت سے ہنگامے اور کشت وخون ہونے تک نوبت پہنچ جاتی ہے۔ایک ضروری امر ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں کر کے اولاد پیدا کرے،بلکہ ایسی سورت میں نیک اور شریف بیبیاں خود اجازت دے دیتی ہیں،پس جس قدر غور کرو گے یہ مسلہ صاف اور روشن نظر آئے گا۔عیسائی کو تو حق ہی نہیں پہنچتا کہ اس مسلہ پر نکتہ چینی کرے،کیونکہ ان کے مسلمہ نبی اور ملہم بلکہ حضرت مسیح علیہ السلام کے بزرگوں نے سات سات سو اور تین تین سو بیبیاں کیں اور اگر وہ کہیں کہ وہ فاسق فاجر تھے،تو پھر ان کو اس بات کا جواب دینا مشکل ہو گا کہ ان کے الہام خدا کے الہام کیوں کر ہو سکتے ہیں؟عیسائیوں میں بعض فرقے ایسے بھی ہیں جو نبیوں کی شان میں گستاخیاں جائز نہیں رکھتے ۔علاوہ ازیں انجیل میں صراحت سے اس مسئلہ کو بیان ہی نہیں کیا گیا۔لنڈن کی عورتوں کا زور ایک باعث ہو گیا کہ دوسری عورت نہ کریں۔پھر اس کے نتائج خود دیکھ لو کہ لنڈن اور پیرس میں عفت اور تقویٰ کی کیسی قدر ہے۔
اسلام کی لڑائیاں دفاعی تھیں ایسا ہی دوسرے مسائل غالمی اور جہاد پر بھی ان کے اعتراض درست نہیں؛کیونکہ تورویت میں ایک لمبا سلسلہ
ایسی جنگوں کا چلتا ہے؛حالانکہ اسلام کی لڑائیاںڈیفنسو(دفاعی)تھیں اور وہ صرف دس سال کے اندر ہی ختم ہو گئیں۔میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ یہ مسائل ان کی کتابوں میں سے نکال سکتا ہوں۔اور ایسا ہی میرا دعویٰ ہے کہ تمام صداقتیں قرآن مجید میں موجود ہیں۔اگر کوئی مدعی ایسی صداقتین پیش کرے کہ وہ قرآن میں نہیں۔میں اسے نکال کر دکھانے کو تیار ہوں۔