سے نکال کر اس زندگی میں داخل کیا،جو اللہ تعالیٰ کے بر گزیدہ بندوں اور رسولوں کو دی جاتی ہے۔ اسلام کی برتری تعلیم وہی کامل ہو سکتی ہے جو انسانی قویٰ کی پوری مربی اور متکفل ہو۔نہ یہ کہ ایک ہی پہلو پر واقع ہوئی ہو۔انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے اور  اس کے بالمقابل قویٰ کیا تعلیم دیتے ہیں؟انسانی قویٰ اور فطرت خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب ہے ۔پس اس کی قولی کتاب،جو کتاب اللہ کہلاتی ہے یا اسے تعلیم الہی کہو۔اس کی ساخت اور بناوٹ کے مخالف اور متضاد کیوں کر ہو گی۔اسی طرح پر اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ آتے ،تو انبیاء سابقین کے اخلاق،ہدایات،معجزات اور قوت قدسیہ پر اعتراض ہوتے،مگر حضور نے آکر ان سب کو پاک ٹھہرایا۔اس لئے آپ کی نبوت کے نشانات سورج سے زیادہ روشن ہیں اور بے انتہا اور بے شمار ہین۔پس آپ کی نبوت یا نشانات نبوت پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی احمق نابینا کہہ دے کہ ابھی تو رات ہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ دوسرے مذاہب تاریکی ہی میں رہتے ہیں،اگر اب تک رسول اکرم نہ آتے ،ایمان تباہ ہو جاتا اور زمین *** اور عذاب الہی سے تباہ ہو جاتی ۔اسلام شمع کی طرح منور ہے جس نے دوسروں کو بھی تاریکی سے نکالا ہے۔توریت کو پڑھو تو بہشت اور دوزخ کا پتہ ہی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔انجیل کو دیکھو تو توحید کا نشان ہی نہیں ملتا۔اب بتلاو کہ اس میں تو شک نہیں کہ یہ دونوں کتابیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھیں اور ہیں۔لیکن ان میں کون سی روشنی مل سکتی ہے۔سچی روشنی اور حقیقی نور جو نجات کے لئے مطلوب ہے،وہ اسلام ہی میں ہے۔توحید ہی کو دیکھو کہ جہاں سے قرآن کو کھولو وہ ایک شمشیر برہنہ نظر آتا ہے کہ شرک کی جڑ کاٹ رہا ہے۔ایسا ہی نبوت کے تمام پہلو ایسے صاف اور روشن نظر آتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر ممکن نہیں۔ ختم نبوت کی حقیقت ختم نبوت کو یوں سمجھ سکتے ہین کہ جہاں پر دلائل اور معرفت طبعی طور پر ختم ہوجاتے ہیں،وہ وہی حد ہے جس کو ختم نبوت کے نام سے  مسموم کیا گیا ہے۔اس کے بعد ملحدوں کی طرح نکتہ چینی کرنا بے ایمانوں کا کام ہے۔ہر بات مین بینات ہوتے ہیں اور ان کا سمجھنا معرفت کاملہ اور نور بصر پر موقوف ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تشریف آوری سے ایمان اور عرفان کی تکمیل ہوئی۔دوسری قوموں کو روشنی پہنچی۔کسی اور قوم کو روشن اور بین شریعت نہیں ملی۔اگر ملتی تو کیا وہ عرب پر کچھ بھی اپنا اثر نہ ڈال سکتی۔عرب سے وہ آفتاب نکلا کہ اس نے ہر قوم کو روشن کیا اور ہر بستی پر اپنا نور ڈالا۔یہ قرآن کریم ہی کو فخر حاصل ہے کہ وہ توحید اور نبوت کے مسئلے میں کل دنیا کے مذاہب پر فتحیاب ہو سکتا ہے۔یہ فخر کا مقام ہے کہ ایسی کتاب مسلمانوں کو ملی ہے۔جو لوگ حملہ کرتے ہیں اورتعلیم وہدایت اسلام پر معترض ہوتے ہیں۔وہ بالکل کو ر باطنی اور بے ایمانی سے بولتے ہیں۔