کا حالات کو چھاپ کر گورنمنٹ کے پاس بھیج دیں،کیونکہ اگر ہم خاموش رہیں تو ادھر مخالف ریشہ دوانیاںکرتے ہیں۔پھر اس کا اثر اچھا نہیں پڑتا۔چونکہ ہمارے دل صاف ہیں اور ہم بدباطن لوگوں کی طرح نفاق اور مداہنت سے کام نہیں لیتے اس لیے ہم کا کامل امید ہے کہ یہ رسالہ کشف الغطاء گورنمنٹ عالیہ کو ہمارے حالات اور ہمارے تعلقات سے اطلاع دے گا اورہمارے ہر دوست کے پاس بطور سارٹیفیکٹ کے رہے گا۔‘‘
۵ جنوری۱۸۹۹ء
مہر نبوت کی اصل حقیقت بعد نماز صبح مولوی قطب الدین صاحب ساکن بدو ملہی نے سوال کیا کہ’’رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کتقین مبارک
کے درمیان جو مہر نبوت بتلائی جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ رسولی کی طرح تھی۔اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟‘‘
’’فرمایا! رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مہر بنوت کے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے۔ہمارے خیال میںیہ بالکل غلط بات ہے،مگر میں یہ بات اپنے سچے جوش اور اخلاص سے کہتا ہوں کہ میرا ایمان یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کسی نشان نبوت کو رسولی وغیرہ الفاظ سے نسبت دینا ایک مومن اور سچے مسلمان کا کام نہیں ۔یہ گستاخی اور شوخی ہے۔جو کفر کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ہم کو ایسے معاملات میں زیادہ تفتیش اور چھان بین کی ضرورت نہیں کہ وہ مہر نبوت کیا تھی؟اور کیسی تھی؟کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نبوت کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نشانات بین اور واضح طور پررکھے تھے۔ان میں سے ایک مہر نبوت بھی تھی۔
اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وجود باجود سے انبیاء علیہم السلام کو ایسی ہی نسبت ہے جیسی کہ ہلال کو بدر سے ہوتی ہے۔ہلال کا وجود ایک تاریکی میں ہوتا ہے،لیکن جب وہ اپنے کمال کو پہنچ کر بدر بن جاتا ہے،تو وہ بدر اپنی پہلی حالت ہلال کا مثبت اور مصدق ہو جاتا ہے۔پس یقیناً سمجھو کہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ آتے تو پہلے نبی اور ان کی نبوتوں کے پہلو مخفی رہتے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا مسیح علیہ السلام پر احسان اب سوچو اور بتلاو کہ کیا موجودہ انا جیل سے
انسان طریق توحید کا پتہ لگا سکتا ہے۔کیسی حیران کر دینے والی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کا نبی اس کی توحید کو قائم کرنے کے لئے آیا کرتا ہے یا اپنی خدائی منوانے؟پس اب موجودہ انجیل نے یہی نہیں کہ طریق توحید کو گم کر دیا ہے۔بلکہ ساتھ ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی رسالت اور نبوت کو اڑا دیا ہے اور چہ جائیکہ وہ خدایا ابن خدا بنتے۔ان کو نبی کے درجے سے بھی گرا کر معاذ اللہ بہت برے درجے کا آدمی بنا دیا۔مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پاک ذات نے آکر ان کی تعلیم کو زندہ کیا اور خودمسیح کی اپنی ذات اور وجود کے لئے مسیحائی کی کہ اس کو مردوں