کا پیالہ عطا کرے تو اس امرکو مجمل طور پر ان ،مشکلات اور لوازمات کو نظر انداز کر کے بیان کیا جاوے۔تو لوگ جو کل حالات پر آگاہ نہیں ،بجائے عظمت کے ہنسی کریں ۔مگر جب مشکلات سے واقف ہوں،تو پھر ایک خاص عظمت اور ہیبت سے اس کو دیکھیں گے۔ایسا ہی اگر کوئی ناخواندہ او راُمیّ آدمی انگریزی کی کتاب پڑھ جاوے،تو اس کی اُمیّت سے واقف لوگ اسے عظمت کی نگاہ سے دیکھیں گے،مگر ایک ایمؔ۔اے اوربیؔ۔اے اگر اس کتاب کو پڑھ جاؤے تو چنداں کیا،بالکل وقعت نہ دیں گے ،معمولی امر خیال کریں گے۔ غرض ہر ایک امر کہ عظمت اور عدم عظمت اس کے حصول کے لوازمات اور مشکلات پر ہوتی ہے۔‘‘ تیس ہزار دعائوں کی قبولیّت پھر فرمایاکہ ’’لوگ اس امر کو بھی جھوٹ جانیں گے۔جو ہم نے لکھ دیا  ہے کہ میری تیس ہزاردعائیں کم از کم قبول ہوئی ہیں،مگر میرا خدا خواب جانتا ہے کہ سچ ہے اور اس میں ذرابھی جھوٹ نہیں ۔کیونکہ ہر ایک کام کے لیے خواہ دینی ہویا دنیوی ۔دعاکی گئی ہے اور اللہ تعالی نے اسے موزو ن اورطیّب بنا دیا ہے۔‘‘ عربی تصنیفات میں دعا کے اثرات عربی تصنیفات میں ایک ایک لفظ دعا ہی کا اثر ہے؛ورنہ انسانی طاقت کا کام نہیں کہ تحدّی کرے۔  اگر دعا کا اثر نہیں تو پھر کیوں کوئی مولوی یا اہل زبان دم نہیں مار سکتا۔یہ اللہ تعالی کا خاص فضل ہے کہ اہل زبان کے رنگ اور محارہ پر ہماری کتب تصنیف ہوئی ہیں؛ورنہ اہل زبان بھی سارے اس پر قادر نہیں ہوتے کہ کل مسلم محاورات زبان پر اطلاع رکھتے ہوں پس یہ خداہی کا فضل ہے۔‘‘ ۲جنوری ۱۸۹۹ء؁ رسالہ کشف الغطاء کی تصنیف کا مقصد ۸بجے دن کے حضرت اقدس امام ہمامؑ ایک کثیر التعداداحباب کے ہمراہ سیر کو تشریف لے  گئے۔ اثنائے راہ میں فرمایا: ’’یہ تکالیف اور ایذائیں جو مخالف کبھی بدزبانیوں کے رنگ میںجھوٹ اور افتراء سے بھرے ہوئے اشتہاروں کے ذریعے اور کبھی گورنمنٹ اور حکومت کو خلاف واقعہ اور محض جھوٹی باتوں کے بیان کرنے سے بدظن کر کے ہم کو پہنچاتے ہیں۔اگر ہماری اپنی ہی ذات تک محدود اور مخصوص ہوتیں،تو خدا بہتر جانتاہے کہ ہم کو ذرا بھی خیال نہ ہوتا ،کیونکہ ہم تو قربانی کے بکرے کی طرح اللہ تعالی کی راہ میں ہر وقت تیار ہیں،مگر اس کا اثر ہماری قوم پرپہنچتا ہے۔اور بعض لوگ ابھی ایسے کمزور بھی ہیں جو ابتلابرداشت نہیں کر سکتے،اس لیے ہم نے مناسب سمجھاہے کہ ان