چوتھا نشان قرآن کریم کے دقائق اور معارف کا ہے،کیونکہ معقرف قرآن اس شخص کے سوا اور کسی پر نہیں کھل سکتے،جس کی تطہیر ہو چکی ہے۔لا یمسہ الا المطھرون(الواقعہ:۸۰)میں نے کئی بار کہا ہے کہ میرے مخالف بھی ایک سورۃ کی تفسیر کریں اور میں بھی تفسیر کرتا ہوں۔پھر مقابلہ کر لیا جاوے،مگر کسی نے جرات نہیں کی۔محمد حسین وغیرہ نے تویہ کہہ دیا کہ ان کو عربی کا صیغہ نہیں آتا اور جب کتابیں پیش کی گئیں تو بودے اور رکیک عذر کر کے ٹال دیا کہ یہ عربی تو اروی کچالوہے ،مگر یہ نہ ہو سکا کہ ایک صفحہ ہی بنا کر پیش کردیتا اور دکھا دیتا کہ عربی یہ ہے۔
غرض یہ چار نشان ہیں جو خاص طور پر میری صداقت کے لیے مجھے ملے ہیں ؎ ؛
۳اکتوبر ۱۸۹۸ء
ایک رویاء ۳اکتوبرکی صبح کو بعد نماز فجر فرمایا:کہ
ِرات کو بعد تہجد لیٹ گیا تو تھوڑی سی غنودگی کے بعد دیکھا کہ میرے ہاتھ میں
’’سرمہ چشم آریہ‘‘کے چارورق ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ آریہ لوگ اب خود اس کیاب کو چھپوارہے ہیں۔‘‘تعبیر میں فرمایاکہ ’’شاید اس سے یہ مراد ہو کہ آریہؔلوگوں کو جو بعض حجاب اور وساوس ہماری پیشگوئیوں متعلقہ لیکھرام وغیرہ کے متعلق ہیں۔وہ دور ہو جاویں۔اور ان پر اصل حقیقت کا انکشاف ہو جاوے۔مقدمہ کلارک میں رامؔ بھجدت وکیل آریہ تھا۔جب امرت سر کے سٹیشن پر مجھ سے ملا،تو اس نے صاف کہا کہ میں بلافیس اس مقدمہ میں اس لیے گیا تھا کہ شاید قتل لیکھرامؔ کا کوئی سراغ ملے،کیونکہ اس کے قتل یقین ہم کو آپ پر تھا۔ایسا ہی اور اقوام کو ایسا خیال ہو سکتا ہے۔پس اس خواب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خداتعالی ان پر اصل حقیقت کھول کر حجتّ ملزمہ قائم کردے۔‘‘ پھر فرمایا کہ’’پٹی والے جو اشتہاردکھائے گئے تھے،اس میں بھی یہی تھا کہ وہ لوگ خود چھپوارہے ہیں۔‘‘
پیشگوئی کی عظمت اس پر مولانہ مولوی نورالدیّن صاحبؓ نے فرمایا کہ جب وہ امر پورا ہوگا۔جس قدر عظمت اور قدر ہم کو ہوگی اور لوگوں کو کہاں۔ہم تو دیکھتے ہیں
کہ کیسے مشکلات درپیش ہیں۔حضرتؑ نے فرمایا۔کہ
’’بیشک صرف اسی میں نہیں بلکہ ہردعا اور پیشگوئی کی عظمت اور قبولیت میں یہی حال ہوتا ہے۔مثلاً اگر کسی لق ودق میدان میں جہاں ہزارہاکوس تک پانی نہیں ملتا۔کوئی شخص دعا کرے اور خداتعالی اپنے فضل سے اسے پانی