اور سامان کے بہم پہنچ جانے پر جو اس کے لئے ضروری ہیں،شائع ہو گئی۔‘‘
اپنی صداقت پر چار قسم کے نشانات
پھر اسی ذکر میں آپ نے فرمایا:’’میں نے بار ہا ذکر کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے نشان مجھے دئے ہیں۔جن کو میں نے بڑے دعوے کے ساتھ متعدد بار لکھا اور شائع کیا ہے۔‘‘
اول۔عربی دانی کا نشان ہے۔اور یہ اس وقت سے مجھے ملاہے،جب سے کہ محمد حسیب بٹالوی صاحب نے یہ لکھا کہ عاجز عربی کا ایک صیغہ بھی نہیں جانتا؛حالانکہ ہم نے پہلے کبھی دعویٰ بھی نہیں کیا تھا کہ عربی کا صیغہ آتا ہے۔جو لوگ عربی املاء اور منشاء میں پڑے ہیں وہ اس کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیںاور اس کی خوبیوں ک الحاظ رکھ سکتے ہیں۔مولوی صاحب (مولوی عبدالکریم صاحب سے مراد تھی)شروع سے دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح پر اللہ تعالیٰ نے اعجازی طور پر مدد دی ہے۔بڑی مشکل آکر پڑتی ہے۔جب ٹھیٹھ زبان کا لفظ مناسب موقع پر نہیں ملتا،تو اس وقت اللہ تعالیٰ وہ الفاظ القاء کرتا ہے۔نئی اور بناوٹی زبان با لینا آسان ہے،مگر ٹھیٹھ زبان مشکل ہے۔پھر ہم نے ان تصانیف کو بیش قرار انعامات کے ساتھ شائع کیا ہے اور کہا ہے کہ تم جس سے چاہو،مدد لے لو اور خوا اہل زبان بھی بلا لو۔مجھے اللہ تعالیٰ نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ وہ ہر گز قادر نہیں ہو سکتے،کیونکہ یہ نشان قرآن مجید کے خوارق میں ظلی طور پر مجھے دیا گیا ہے۔
دوم۔ دعاوں کاقبول ہونا۔میں نے عربی تصانیف کے دوران میں تجربہ کر کے دیکھ لیا ہے کہ کس قدر کثرت سے میری دعائیںقبول ہوئی ہیں۔ایک ایک لفظ پر دعا کی ہے اور میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو تو مستثنیٰ کرتا ہوں۔(کیونکہ ان کے طفیل اور اقتداء سے تو یہ سب کچھ ملا ہی ہے)اور میں کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں اس قدر قبول ہوئی ہیں کہ کسی کی نہیں ہوئی ہوں گی۔میں نہیں کہہ سکتا کہ دس ہزار یا دو لاکھ یا کتنی اور بعض نشانات قبولیت کے تو ایسے ہیں کہ ایک عالم ان کو جانتا ہے۔
تیسرا۔نشان پیش گوئیوں کا ہے یعنی اظہار علی الغیب۔یوں تو نجومی اور رمال لوگ بھی اٹکل بازیوں سے بعض باتین ایسی کہہ دیتے ہیں کہ ان کا کچھ نہ کچھ حصہ ٹھیک ہوتا ہے اور ایسا ہی تاریخ ہم کو بتلاتی ہے کہ رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے زمانے میں بھی کاہن لوگ تھے جو غیب کی خبریں بتلاتے تھے؛چنانچہ سطیح بھی ایک کاہن تھا،مگر ان اٹکل باز رماوں اور کاہنوں کی غیب دانی اور مامور من اللہ اور ملہم کے اظہار گیب میں فرق ہوتا ہے کہ ملہم اظہار غیب اپنے اندر الہی طاقت اور خدائی ہیبت رکھتا ہے؛چنانچہ قرآن پاک نے صاف فرمایا ہے کہ لا یظھر علے غیبہ احدا الا من ارتضی من رسول(الجن:۲۷،۲۸)یہاں اظہار کا لفظ ہی طاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر ایک شوکت اور قوت ہوتی ہے۔