۲۶ستمبر۱۸۹۸ء
کامیابی کی بشارت ۲۶ ستمبر کی صبح کو نماز فجرحضرت اقدس نے فرمایا :کہ
’’اب میری حالت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اگر کوئی خواب بھی آتا
ہے،تو میں اسے اپنی ذات یا نفس سے مخصوص نہیں سمجھتا،بلکہ اسلام اور اپنی جماعت ہی کے متعلق سمجھتا ہوں اور میں قسم کھا کر کہہ سکتا ہوں کہ اپنے نفس کا ذرا بھی خیال نہیں ہوتا۔چنانچہ تار میں نے دیکھا کہ ایک بڑا پیالہ شربت کا پیا۔اس کی حلاوت اس قدر ہے کہ میری طبیعت برداشت نہیں کرتی۔باینہمہ میں اس کو پئے جاتا ہوں اور میرے دل میں یہ خیال بھی گزرتا ہے کہ مجھے پیشاب کثرت سے آتا ہے۔اتنا میٹھا اور کثیر شربت میں کیوں پی رہا ہوں۔مگر اس پربھی میں اس پیالے کو پی گیا۔شربت سے مراد کامیابی ہوتی ہے اور یہ اسلام اور ہماری جماعت کی کامیابی کی بشارت ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جس قدر تعلقات انسان کے وسیع ہوتے جاتے ہیں،اسی قدر سلسلہ اس کے خواب کا بلحاظ تعلقات وسیع ہوتا جاتا ہے۔مثلاً اگر کلکتہ کا کوئی ایسا شخص ہو ،جس کو ہم جانتے بھی نہیں،تو اس کے متعلق کوئی خواب بھی نہ آئے گی؛چنانچہ کئی سال پہلے جب مجھے صرف چند آدمی جانتے تھے،اس وقت جو خواب آئی تھی وہ ان تک ہی محدود تھی اور اب کئی ہزار سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘
ادویات کے متعلق سلسلہ گفتگو کا چل پڑا اور وہ اس تقریب پر کہ مولوی عبدالکریم صاحب کو کوئی دوا حضرت اقدس نے شب گذشتہ کو دی تھی۔اس کے اثر کے متعلق حضرت نے دریافت فرمایا ۔اسی ضمن میں ایسٹرن سیرپ اور کچلہ وغیرہ پر مختلف ذکر ہوتا رہا اور ان کے خواص میں سے اعصاب کی تقویت کا تذکرہ ہوا ۔
عربی زبان کے کمالات جس پر حضرت اقدس کو مولانا عبدالکریم صاحب نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ عصب کے لفظ مین فلاسفی بھری ہوئی ہے۔
کیونکہ عصب کے معنی ہیں باندھنا اور پٹھے بھی انسان کے عضاء کو رسیوں کی طرح باندھے رکھتے ہیں اور بالمقابل نرو((nerveکے لفظ میں بجز لفظ کے کچھ نہیں۔اس پر حضرت نے فرمایا:
’’یہ بھی رسول اکرم کا معجزہ ہے کہ الفاظ کے اندر علمی باتیں بھری ہوئی ہیں اور عربی زبان اس لئے خاتم الاسنہ ہے۔چونکہ قرآن جیسا عظیم الشان معجزہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیا،اس لئے اس کی عظمت علمی پہلو سے بہت بڑی ہے۔‘‘
پھر اس کے ضمن میںمنن الرحمن کی اشاعت کے متعلق تذکرہ ہوتا رہا۔حضرتؑ نے فرمایا کہ ’’بعض اسباب