اول یہ کہ رسول ضرورت کے وقت آئے اور پھر اس ضرورت کو بوجہ احسن پورا کرے۔سو یہ فخر بھی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسل ہی کو حاصل ہے۔عرب اور دنیا کی حالت جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم آئے۔کسی سے پوشیدہ نہیں۔بالکل وحشی تھے۔کھانے پینے کے سوا کچھ نہیں جانتے تھے۔نہ حقوق العباد سے آشنا،نہ حقوق اللہ سے آگاہ۔چنانچہ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے ا ن کا نقشہ کھینچ کر بتلایا کہ یاکلون کما تا کل لانعام(محمد:۱۳)پھر رسول پاک کی تعلیم نے ایسا اثر کیا یبیتون لربھم سجدا وقیاماً(الفرقان:۶۵)کی حالت ہو گئی۔یعنی اپنے رب کی تیاد میں راتیں سجدے اور قیام میں گزار دیتے تھے۔اللہ!اللہ!!کس قدر فضیلت ہے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سبب سے ایک بینظیر انقلاب اور عظیم الشان تبدیلی واقع ہو گئی۔حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں کو میزان اعتدال پر قائم کر دیا اور مردا خور اور مردہ قوم کو ایک اعلیٰ درجہ کی زندہ اور پاکیزہ قوم بنا دیا۔دونوں ہی خوبیاں ہوتیں ہیں۔علمی یا عملی۔عملی حالت کا تو یہ حال ہے کہ یبیتون لربھم سجدا وقیاماً(الفرقان:۶۵)اور علمی کا یہ حال ہے کہ اس قدر کثرت سے تصنیفات کا سلسلہ اور توسیع زبان کی خدمت کا سلسلہ جاری ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ دوسری طرف جب عیسائیوں کو دیکھتا ہوں،تو مجھے حیران ہی ہونا پڑتا ہے کہ حواریوں نے عیسائی ہو کر کیا ترقی کی۔یہود اہ اسکریوطی جو یسوع کا خزانچی تھا۔کبھی کبھی تغلب بھی کر لیا کرتا تھا اور تیس روپے لے کر استاد کو پکڑوانا تو اس کا ظاہرہی ہے۔یسوع کی تھیلی میں دو ہزار روپیہ رہا کرتا تھے۔ایک طرف تو ان کا یہ حال ہے بالمقابل رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ حال کہ بوقت وفات پوچھا کہ کیا گھرمیں کچھ ہے۔جناب عائشہؓ نے فرمایا کہ ایک دینار ہے۔حضور نے فرمایا کہ اس کو تقسیم کر دو۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کا رسول خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرے اور گھر میں کچھ دینار چھوڑ جاوے۔ مجھے تو حیران ہی ہونا پڑتا ہے کہ عیسائی لوگ فلسفہ فلسفہ پکارتے ہیں۔ان کی الہیات کی فلسفی خدا جانے کہاں گئی۔کفارہ ہی کو دیکھو ۔ایک تصوری جانور کی طرح ہے۔کفارہ نے کیا بنایا۔علمی دلائل کو چھوڑ دیا جاوے۔تو بھی دیکھو کہ حواریوں کی نہ تو علمی اصلاح ہوئی اور نہ عملی۔علمی اصلاح کے لئے تو خود انجیل نے فیصلہ کر دیا کیہ وہ موٹی عقل والے تھیاور کم فہم اور لالچی تھے اور عملی اصلاح کا خاکہ بھی انجیل ہی نے کھینچ کر دکھلا دیا کہ کوئی لعنتیں بھیجتا ہے اور کوئی تیس روپے پر پکڑواتا ہے اور کیا کچھ گناہ کے آثار ۔تاریکی اور ظلمت تو اس دنیا ہی میں شروع ہو جاتی ہے۔جیسے فرمایا من کان فی ھذہ اعمی فھو فی الاخرۃ اعمی(بنی اسرائیل:۷۳)اب یسوع کے شاگردوں کو دیکھو کہ کیا ان کی حالت میں تبدیلی ہوئی۔گناہ کے دور ہونے سے تو ایک قسم کی بصیرت اور روشنی پیدا ہوتی ہے،مگر ان میں کہاں۔پھر کفارہ نے کیا بنایا۔‘‘