پھر مولانہ عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ ’’آجکل تو مفاہمہ،تفہیم وغیرہ ہی بولتے ہیں۔‘‘
عربی زبان کی وسعت اور اسلام کی تائید اس کے بعد اسی سلسلے میں حضرت ؑ نے فرمایا:کہ
’’عربی زبان بہت وسیع ہے اور ہر قسم کی اصلاحیں اس میں موجود ہیں اور تصنیفات اس قدر سے ہو رہی ہیں کہ جن کا علم بجز خدا کے اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔صرف حدیث ہی کو دیکھو کہ کوئی کامل طور پر دعویی نہیں کر سکتا کہ اس نے علم حدیث کی کل کتابوں کو دیکھا ہو۔‘‘
پھر مولانا عبدالاکریم صاحب نے علی سبیل الذکر فرمایا کہ’’حال ہی میں مولوی نور الدین صاحب کے پاس مصر سے کتب خانہ خدیویہ کی ایک فہرست سات جلدوں میں آئی ہے۔وہ فہرست ایسے طور پر مرتب کی گئی ہے کہ اس کو پڑھ کر بھی مزہ آتا ہے۔ایسے ڈھنگ سے کتابوں پر نمبر دئے ہیں کہ ایک بالکل اجنبی بھی اگر لائبریری چلا جائے،تو وہ بلا تکلف عین کتا ب پر ہاتھ ڈالے گا؛بشرطیکہ ایک بار اس نے فہرست کو دیکھا ہو۔‘‘
اس پر حضرت اقدسؑ نے پوچھا کہ’’وہ کتابیں باہر جا سکتیں ہیں؟‘‘
’’مولوی صاحب نے فرمایا۔’’ہاں۔وہ لائبریریاں ایسی نہیں۔کتابیں نقل ہو سکتیں ہیں۔وغیرہ وغیرہ‘‘
اس پر جناب امام ہمام علیہ السلام نے فرمایاکہ:
’’خدا تعالیٰ نے اسلام کی کس قدر تائید کی ہے۔اگر کوئی نادان اسلام کی تائید الہی کا انکار کرتا ہے،تو اسے ماننا پڑے گا کہ کبھی بھی دنیا میں خدا نے کسی کی تائید نہیں کی۔زبان کا اس قدر وسیع ہونا اور پھر اس میں اس قدر کثرت کے ساتھ تصنیفات کا ہونا بھی اسلام ہی کی تائید ہے؛کیونکہ قرآن شریف ہی کی تائید ہوتی ہے۔کوئی اہل لغت جب کسی لفظ کے معنے لکھتا ہے،تو اگر وہ لفظ قرآن مجید میں آیا ہے،تو ساتھ ہی اس نے وہ آیت بھی لکھ دی ہے۔‘‘
یہان مولانہ عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ’’لسان العرب نے تو یہ طریق لازمی طور پر رکھا ہے۔‘‘پھر حضرتؑ نے اپنے سلسلہ تقریر میں فرمایا کہ :
’’سنسکرت وغیرہ زبانیں تو تقریبا مردہ ہو گئی ہیں ۔نہ ان میں تصنیفات ہیں نہ کچھ اور۔ایسا ہی عیسائیوں کا حال ہے کہ ان کی انجیل کو اصلی زبان کی طرف توجہ ہی نہیں رہی۔‘‘
اسلام کا پیدا کردہ روحانہ انقلاب پھر اسی سلسلہ میں حضور نے فرمایا:
’’مجھے حیرت ہوتی ہے کہ پھر اسلام سے کیوں پر
خاش رکھی جاتی ہے۔اسلام کا خد اکوئی مصنوعی خدا نہیں،بلکہ وہی قادر خدا ہے جو ہمیشہ سے چلا آیا ہے اور پھر رسالت کی طرف دیکھو کہ اصل غرض رسالت کی کیا ہوتی ہے؟