ہ بلندی مجھے نصیب ہوئی۔ ایک زمانہ تھا، جب میں بویا گیا ،زمین میں مخفی رہا، خاکسار ہوا۔ پھر خدا کے ارادہ سے بڑھا۔ بڑھنے نہ پایا کہ کاٹا گیا۔ پھر طرح طرح کی مشقتوں کے بعد صاف کیا گیا۔ کولہو میں پسا گیا۔ پھر تیل بنا اور آگ لگائی گئی۔ کیا ان مصائب کے بعد بھی بلندی حاصل نہ کرتا؟ یہ ایک مثال ہے کہ اہل اللہ مصائب وشدائد کے بعد درجات پاتے ہیں۔ لوگوں کا یہ خیال خام ہے کہ فلاں شخص فلاں کے پاس جاکر بلا مجاہدہ وتزکیہ ایک دم میں صدقین میں داخل ہو گیا۔ قرآن شریف کو دیکھو کہ خدا کس طرح تم پر راضی ہو جب تک نبیوں کی طرح تم پر مصائب و زلازل نہ آویں، جنھوں نے بعض اوقات تنگ آکریہ بھی کہہ دیا ۔حَتّٰی یَقُوْلُ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہ‘ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ اَلَآ اِنَّ نَصْرُاللّٰہِ قَرِیْبٌ(البقرہ:۲۱۵)اللہ کے بندوں ہمیشہ بلاوں میں ڈالے گئے۔ پھر خدا نے ان کو قبول کیا ۔ ترقیات کی دو راہیں سلوک صوفیوں نے ترقیات کی دو راہیں لکھی ہیں۔ ایک سلوکؔ دوسرا جذبؔ ۔سلوک ؔوہ ہے جو لوگ آپ عقلمندی سے سوچ کر اللہ ورسول کی راہ اختیار کرتے ہیں ۔جیسے فرمایا: قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاَتْبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (آل عمران:۳۲)یعنی اگر تم اللہ کے پیارے بننا چاہتے ہو، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پیروی کرو۔ وہ ہادی کامل وہی رسول ہیں جنھوں نے وہ مصائب اٹھایں کہ دنیا اپنے اندر نظیر نہیں رکھتیں۔ ایک دن بھی آرام نہ پایا۔ اب پیروی کرنے والے بھی حقیقی طور سے وہی ہوں گے۔ جو اپنے متبوع کے ہر قول وفعل کی پیروی پوری جدوجہد سے کریں۔متبع وہی ہے جو سب طرح پیروی کرے گا۔ سہل انگار اور سخت گداذ کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ تو اللہ تعالیٰ کے غضب میں آوے گا۔ یہاں جو اللہ تعالی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمکی پیروی کا حکم دیا تو سالک کا کام یہ ہونا چاہیے کہ اول رسول آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلمکی مکمل تاریخ دیکھے اور پھر پیروی کرے۔ اسی کا نام سلوک ہے۔ اس راہ میں بہت مصائب وشدائد ہوتے ہیں ان سب کو اٹھانے کے بعد ہی انسان سالک ہوتا ہے۔ جذب اہل جذب کادرجہ سالکوں سے بڑھاہواہے۔اللہ تعالی انہیںسلوک کے درجہ پر ہی نہیں رکھتا، بلکہ خود اُن کو مصائب میں ڈالتا اور جا ذبہ ازلی سے اپنی طرف کھنچتا ہے۔ کُل انبیا محزوب ہی تھے۔ جس وقت انسانی روح کو مصائب کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ان سے فرسودہ کار اور تجربہ کار ہو کرروح چمک اٹھتی ہے۔ جیسے کہ شیشہ یش لوہا اگرچہ چمک کا مادہ اپنے اندر رکھتا ہے ۔لیکن صیقلوں کے بعد ہی مجلی ہوتا ہے؛ حتیٰ کہ اس میں منہ دیکھنے والے کا منہ نظر آجاتا ہے۔ مجاہدات بھی صقیل کا کام ہی کرتا ہے۔ دل کا سقیل یہاں تک ہونا چاہیے کہ اس میں سے بھی منہ نظر آجاوے۔ منہ کا نظر آنا کیا ہے؟تَخْلَقُوْا بِاْخْلَاقِ اللّٰہِ کا مصداق ہونا۔ سالک کا دل آئنہ ہے جس کو مصائب وشدائد