پکے ہوتے ہیں ۔‘‘ حضرت اقدس نے فرمایا کہ: ’’ان باتوں پر غور کرنے کے بعد افسوس کے ساتھ ذہن دوسری طرف منتقل ہو جاتا ہے کہ ایک طرف تو یہ پادری لوگ کالجوں اور سکولوں میں یہ فلسفہ اور منطق پڑھاتے ہیں اور دوسری طرف مسیح کو ابن اللہ اور اللہ مانتے ہیں اور تثلیث وغیرہ عقائد کے قائل ہیں،جو سمجھ ہی میں نہیں آتا کیونکر اس کو فلسفہ سے مطابق کرتے ہیں۔انگریزی منطق کی بناتو منطق استقرائی ہی ہے۔پھر یہ کونسا استقراء ہے کہ یسوع ابن اللہ ہے۔کونسی شکل پیدا کرتے ہوں گے۔یہی ہو گا کہ مثلاً اس قسم کے خواص جن لوگوں کے اندر ہوںوہ خدا یا خدا کے بیٹے ہوتے ہیں۔اور مسیح میں یہ خواص تھے۔پس وہ بھی خدا یا خدا کا بیٹا تھا۔اس سے تو کثرت لازم آتی ہے جو محال مطلقہ ہے۔میں تو جب اس پر غور کرتا ہوں،حیرت بڑھتی ہی جاتی ہے۔نہیں معلوم یہ لوگ کیوں نہیں سوچتے؟ اسلامؔ کے پاک اصول ایسے نہیں ہیں کہ فلسفہ یا استقراء کی محک پر بھی کامل المعیارثابت نہ ہوں۔بلکہ میں نے بار ہا غور کی ہے کہ قرآن کریم کی نسبت جو آیا ہے فی کتاب مکنون(الواقعہ:۷۹)یہ کتاب مکنون آسمان اور زمین کی چھپی ہوئی کتاب ہے،جس کے پڑھنے پر ہر ایک شخص قادر نہیں ہو سکتا اور قرآن کریم اسی کتاب کا آئینہ ہے اور قرآن کریم نے وہی خدا دکھایا ہے،جس پر آسمان وزمین شہادت دیتے ہیں۔مگر یہ انیس سو برس کا تراشہ ہوا جعلی مردہ خدا کس سند اور شہادت پر خدا بنایا گیا ہے۔پس یہ اسلام ہی کی خوبی اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہی فخر ہے کہ وہ ایسا دین لے کر آئے جو ہمیشہ سے ہے اور جس کی تعلیم زمین اور آسمان کے اوراق میںبھی واضح طور پر موجود ہے۔‘‘؎۱  ۲۵اگست۱۸۹۸؁ء موجودہ فارسی ۲۵ اگست کی صبح کو فارسی زبان پر گفتگو کرتے ہوئے مولونہ مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی نے کہا کہ’’ایرانیوں نے آجکل اپنی توجہ تصنیفات کی طرف بہت مبذول کی ہے اور اس کثرت سے عربی الفاظ استعمال کرتے ہیںکہ بجز روابط کے فارسی زبان کو کم دخل دیتے ہیں اور باب مفاعلہ،انفعال۔استفعال کو اس قدر کثرت کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ عقل حیران ہوتی ہے۔‘‘ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ’’فہمیدن وغیرہ قدیم زمانہ میں استعمال کرتے تھے۔آجکل بہت کم استعمال رہ گیا ہے۔‘‘