یہ بھی ایک سچی بات ہے کہ تصنیفات کے لئے جب تک صحت اور فراغت نہ ہو،یہ کام نہیں ہو سکتا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ان لوگوں ہی کو ملتا ہے جن سے وہ کوئی کام لینا چاہتا ہے۔پھر ان کو یہ سب سامان جو تصنیف کے لئے ضروری ہوتے ہیں،یکجا جمع کر دیتا ہے۔‘‘ رعایت اسباب جناب مولانا مولوی نور دین صاحبؓ کی طبیعت۳۱جولائی۱۸۹۸؁ء سے بعارضہ درد شکم علیل تھی،تو حضڑت اقدس نے آدمی بھیج کر خبر  منگوائی اور افاقہ کی خبر سن کر الحمد اللہ فرمایا۔اور فرمایا: ’’مولوی صاحب کا سِن اب انحطاط کا ہے،اس لئے بڑی احتیاط کی ضرورت ہے گویا پھونک پھونک کر قدم رکھنا چاہیے۔زندگی اور موت تو اللہ تعالیٰکے قبضہ قدرت میں ہے،لیکن انسان کو یہ بھی مناسب نہیں کہ وہ اسباب کی رعایت نہ رکھے۔‘‘ پھر فرمایا کہ: ۲۳اگست۱۸۹۸؁ء کی شام حضورؑ نے پوچھا کہ: جدید فلسفہ بے دینی کیوں پیدا کرتا ہے؟ ’’یہ موجودہ فلسفہ اکثر طبیعتوں میں بے دینی کیوں پیدا کر دیتا ہے۔‘‘ ماسٹر غلام محمد صاحب سیالکوٹی نے کہا’’دراصل جو طبیعتیں پہلے ہی سے بے دینی کی طرف مائل ہوتی ہیں،وہی اس سے اثر پذیر ہوتی ہیں؛ورنہ اکثر بڑے فلاسفر مزاج پادری اپنے مذہب میں