دوازوہم جلد ہثرو ہم بابت۱۸۹۵ء
بدست محمد ولد چوغہ قوماعوان ساکن ہموںؔ گکھڑ ضلع سیالکوٹ بھیجا۔جس میں حضرت مسیح موعود ؑ پر بہت نا واجب حملے کیے گئے تھے۔آپؑ نے ۲۵ جولائی۱۸۹۸ء کی سہ پہر کو اصل مرسلہ کی پیشانی پر مندرجہ ذیل عبارت لکھ کر قاصد کو دے دی:؎۱
’’رب ان کان ھذا الرجل صاداقاً فی قولہٖ فاکرمہ وان کان کاذبا فخذہ۔آمین۔‘‘؎۲
یکم اگست ۱۸۹۸ء
صبح کی نماز کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا:
خواب میں ہاتھ سے دانت کا گرنا منذر ہوتا ہے ’’میں نے خواب میں دیکھا کہ داڑھ کا ایک حصہ جو بوسیدہ
ہو گئی ہے۔اس کو میں نے منہ سے نکالا اور وہ بہت صاف تھا اور اسے ہاتھ میں رکھا۔‘‘پھر فرمایا کہ
’’خواب میں دانت اگر ہاتھ سے گرایا جائے،تو وہ منذر ہوتا ہے ورنہ مبشر۔‘‘
زاںبعد صادق نے اپنے دو خواب سنائے۔جن میں سے ایک نور کے کپڑوں کا ملنا اور دوسرے میں حضرت اقدسؑ کے دئے ہوئے مضمون کا خوشخط نقل کرنا تھا۔جس کی تعبیر حضرت اقدس نے کامیابی مقاصد فرمائی۔
تائید الہی سے مضامین کا دل پر نزول اس کے بعد حضرت اقدس نے فرمایا کہ:’’تائیدات الہیہ ایک تو بین اور
ظاہر طور پر ظہور پذیر ہوتی ہیں اور عام لوگ ان کو دیکھ سکتے ہیں،مگر بعض مخفی تائیدات ایسی ہوتیں ہیںجن کے لئے میری سمجھ میں کوئی قاعدہ نہیں آتا کہ عوام الناس کو کیوں کر دکھا سکوں۔مثلاً یہی عربی تصنیف ہے۔میں خوب جانتا ہوں کہ عربی ادب میں کہاں تک دسترس ہے،لیکن جب میں تصنیف کا سلسلہ شروع کرتا ہوں،تو یکے بعد دیگرے اپنے اپنے محل اور موقع موزون طور پر آنے والے الفاظ القاء ہوتے جاتے ہیں۔اب کوئی بتلائے کہ ہم کیوں کر اس تائید الیہ کو دکھلا سکیںکہ خدا کیونکر سینہ پر الفاظ نازل کرتا ہے۔اوت دیکھو اس ایام الصلح میں اکثر مضامین ایسے ہیں جن کا میری پہلی تصانیف میں ذکر تک نہیں اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ اس سے پہلے وہ پہلے کبھی ذہن میں نہ گزرے تھے،لیکن اب وہ ایک ایسے طور پر آکر قلب پر نازل ہوئے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آسکتا،جب تک خود تائید الہی شامل حال ہو کر اس کو اس قابل نہ بنا دیوے اور یہ خد اتعالیٰ کا فضل ہے جو وہ ایسے بندون پر کرتا ہے جن سے کوئی کام لینا ہوتا ہے۔