ایک سچی صلح پیدا کرلو اور اس کی اطاعت میں واپس آجاو۔اللہ تعالیٰ کا غضب زمین پر نازل ہو رہا ہے اور اس سے بچنے والے وہی ہیں جو کامل طور پر اپنے سارے گناہوں سے توبہ کر کے اس کے حضور میں آتے ہیں۔
تم یاد رکھو کہ اگر اللہ تعالیٰ کے فرمان میں تم اپنے تئیں لگاو گے اوراس کے دین کی حمایت میںساعی ہو جاو گے۔تو خدا تمام رکاوٹوںکو دور کر دے گا اور تم کامیاب ہو جاو گے۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ کسان عمدہ پودوں کی خاطر کھیت میں سے ناکارہ چیزوں کو اکھاڑ کر پھینک دیتا ہے۔اور کھیت کو خوش نما درختوں اور بار آور پودوں سے آراستہ کرتا اور ان کی حفاظت کرتاہے۔اور ہر ایک ضرر اور نقصان سے ان کو بچاتا ہے،مگر وہ پودے اور درخت جو پھل نہ لاویں اور گلنے اور خشک ہونے لگ جاویں،ان کی مالک پرواہ نہیں کرتا کہ کوئی مویشی آکر ان کو کھا جاوے یا کوئی لکڑہارا ان کو کاٹ کر اپنے تنور میں پھینک دیوے۔سو ایسا ہی تم بھی یاد رکھو۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے حضور میں صادق ٹھہرو گے،تو کسی کی مخالفت تمہیں تکلیف نہ دے گی۔پر اگر تم اپنی حالتوں کو درست نہ کرو اور اللہ تعالیٰ سے فرمانبرداری کا ایک سچا عہد نہ باندھو،تو پھر اللہ تعالیٰ کو کسی کی بھی پرواہ نہیں۔ہزاروں بھیڑیں اور بکریاں ہر روز ذبح ہوتیں ہیں۔پر ان پر کوئی رحم نہیں کرتا اور اگر ایک آدمی مارا جاوے،تو کتنی باز پرس ہوتی ہے۔سو اگر تم اپنے آپ کو درندوں کی مانند بے کار اور لاپرواہ بناو گے،تو یمہارا بھی ایسا ہی حال ہو گا ۔چاہیے کہ تم خدا کے عزیزوں میں شمار ہو جاو ۔تا کہ کسی وباء یا کسی آفت کو تم پر ہاتھ دالنے کی جرات نہ ہو سکے،کیونکہ کوئی بات بھی اللہ کی اجازت کے بغیر زمین پر نہیں ہو سکتی۔ہر ایک آپس کے جھگڑے اور جوش اور عداوت کو درمیان میں سے اٹھا دو کہ اب وہ وقت ہے کہ تم ادنیٰ باتوں سے اعتراض کر کے اہم اور عظیم الشان کاموں میں مصروف ہو جاؤ۔لوگ تمہاری مخالفت کریں گے اور انجمن کے ممبر تم پر ناراض ہوں گے۔پر تم ان کو نرمی کے ساتھ سمجھاو اور جوش کو ہر گز کام میں نہ لاو۔یہ میری وصیت ہے۔اور اس بات کو وصیت کے طور پر یاد رکھو کہ ہر گز تنگی اور سختی سے کام نہ لینا بلکہ نرمی اور آہستگی اور خلق سے ہر ایک کو سمجھاو اور انجمن کے ممبرون کو ذہن نشین کرو کہ ایسا میموریل؎۱ فی الحقیقت دین کو ایک نقصان پہنچانے والا امر ہے اور اسی واسطے ہم نے اس کی مخالفت کی کہ دین کو صدمہ پہنچتا ہے۔ ؎۲
۲۵ جولائی۱۸۹۸ء
گالیوں کا احسن جواب مولوی محمد حسین ؔصاحب بٹالوؔی نے اپنے رسالہ اشاعت ؔالسنہ نمبر پنجم لغای