ہو جاتے ہیں۔اس لئے مجبوری کی حالت میں ظہر اور عصر اور مغرب وعشاء کی نمازوں کا جمع کر کے پڑھ لینا جائز ہے۔میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر حکام سے نمازوں کے پڑھنے کی جازت طلب کر لی جائے،تو وہ اجازت دے دیا کرتے ہین،نیز اعلیٰ حکام کی طرف سے ماتحت افسروں کو اس کے بارے میں خاص ہدایات ملی ہوئی ہوتیں ہیں ۔ترک نماز کے لئے ایسے بے جا عذر بجز اپنے نفس کی کمزوری کے اور کوئی نہیں۔حقو ق اللہ اور حقوق العباد میںظلم وذیادتی نہ کرو۔اپنے فرائض منصبی نہایت دیانت داری سے بجا لاو۔گورنمنٹ پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی بد ظنی نہ کرو۔کیا تمہیں سکھوں کے عہد حکومت کے واقعات معلوم نہیں،جس وقت مسجدوں میں اذان دینی موقوف ہو گئی تھی۔گائے کو ذرا سی تکلیف دینے پر سخت ایذائیںاور بے حد ظلم ہوتے تھے۔پس ایسی مصیبت سے تم کو خلاصی دینے کے لئے اللہ تعالیٰ بہت فاصلے سے اس سلطنت کو لایا ۔جس سے ہم نے بہت فائدہ حاصل کیا ہیاور امن امون سے اپنے فرائض مزہبی ادا کرنے لگے۔اس لئے ہمیں کس قدر شکریہ اس گورنمنٹ کا کرنا چاہیے۔خوب یاد رکھو کہ جو شخص انسان کا شکر ادا نہیں کرتا ،وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا ۔یہ قاعدہ ہے کہ اگر انسان اپنے کسی عضو سے کام نہ لے،تو وہ ایک عرصہ کے بعد بے کار ہو جایا کرتا ہے۔مشہور ہے کہ اگر آنکھ کو چالیس دن تک بند رکھا جائے۔تو وہ بالکل اندھی ہو جائے۔اس لئے میں تم کو بتاکید نصیحت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے ہم پر بہت احسان ہیں۔حقائق اور معارف کی کثیر التعداد کہاںکہاں سے ہمیں میسر آتیں ہیں۔ان کی سلطنت کی آذادی سے ہم نے بہت فائدہ اٹھایاہے۔ہمارے مذہب پر حملے ہوئے اور دیگر مشکلات کا سامنا ہوا ،تو ہم نے کس طرح آذادی سے ان کا دفعیہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے حسب وعدہ والذین جاھدو فینا لنھدینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰)ہم پر کس کس قسم کے معارف کھولے۔جنہیں ہم نے دورونزدیک شائع کیا۔گورنمنٹ کی آزادی بھی ایک باعث ان کے کھلنے کا ہے۔بالآخر میں پھر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے سچا رشتہ قائم کرو اور گورنمنٹ کی نسبت بدظنی مت کرو بلکہ اس کی ہدایات کی تعمیل کرو اور اسے مدد دو۔ ؎۱
۱۶مئی۱۸۹۸ء
تم خدا کے عزیزوں میں شامل ہو جاؤ دن بہت ہی نازک ہیں۔اللہ تعالیٰ کے غضب سے سب کو ڈرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ
کسی کی پرواہ نہیں کرتا،مگر صالح بندوں کی۔آپس میں محبت اور اخوت کو پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ہر ایک قسم کے ہزل اور تمسخر سے کنارہ کش ہو جاؤ،کیونکہ تمسخر انسان کے دل کو صداقت سے دور کر کے کہیں کا کہیں پہنچا دیتا ہے۔آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ عزت کے ساتھ پیش آؤ۔ہر ایک اپنے آرام پر اپنے بھائی کے آرام کو ترجیح دیوے۔اللہ تعالیٰ سے