نے فرمایا کہ جو کچھ سارہ کہتی ہے،وہی کرنا ہو گا۔اس لئے نہیں کہ خدا تعالیٰ کو حضرت سارہ کا پاس تھا۔حضرت سارہ نے اس واقعہ سے پہلے بھی ایک دفعہ حضرت ہاجرہ کو گھر سے نکالا تھا۔اس وقت بھی خدا تعالیٰ کا فرشتہ اس سے ہم کلام ہو تھا۔کیونکہ ا نبیاء کے علاوہ غیر انبیاء سے بھی بذریعہ فرشتہ کلام کیا کرتا ہے؛چنانچہ حضرت ہاجرہ سے دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کا مکالمہ ہوا۔غرض حضرت ابراہیم ؑ نے ویسا ہی کیا اور کچھ تھوڑا سا پانی اور تھوڑی سے کھجوریں ہمراہ لے کر حضرت ہاجرہ اور اس کے بچے کو لے جاکر وہاں چھوڑ آئے جہاں اب مکہ آباد ہے۔چند دن کے بعد نہ دانہ رہا نہ پانی۔حضرت اسماعیل ؑ پیاس سے بے چین ہونے لگے ،تو اس وقت حضرت ہاجرہ نے چاہا کہ اپنے بچے کو ایسی بے بسی کی موت اپنی آنکھ سے دیکھے۔اس لئے حضرت ہاجرہ چند مرتبہ اس پہاڑ پر ادھر ادھر دوڑیں کیں کہ شاید کوئی قافلہ ہو ۔پہاڑ پر چڑھ کر گریہ وزاری کرنے لگیں ۔یہ ایسا وقت تھا کہ صرف ان کے پاس ایک ہی بچہ تھا۔خاوند سے الگ تھیں۔دوسرا بچہ پیدا ہونے کی امید نہیں تھی۔گویا بیوہ کی مانند آپ کا حال تھا ۔آپ کی گریہ وزاری پر فرشتے نے آواز دی ہاجرہ! ہاجرہ!!جب آپ نے ادھر ادھر دیکھا،تو کوئی شخص نظر نہ آیا۔بچہ کے پاس جب آئیں تو دیکھا کہ اس کے پاس پانی کا چشمہ بہ رہا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے مردہ سے ان کو زندہ کر دیا۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر چشمہ کا پنی نہ روکتا،تو وہ تمام ملک میں پھیل جاتا اس قصہ کے بیان کرنے سے یہ مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی ایسی جگہوں پر جہاں دانہ پانی کچھ نہ ہو۔اس طرح اپنی قدرت کے کرشمے دکھایا کرتا ہے؛چنانچہ پانی کہ اس پہلے کرشمے نے حضرت اسماعیل ؑ کو زندہ کیا ،مگر وہ پانی جو حضرت محمد ﷺ کے ذریعہ سے پھیلایا گیا ،اس کی شان میں فرمایا۔اعلمو ان اللہ یحی الارض بعد موتھا(الحدید:۱۸)گویا اس پانی سے دنیا زندہ ہوئی۔مدعا یہ ہے کہ جہاں ظاہری اسباب موجود نہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے بچاو کی ایک راہ نکال دی اور اللہ تعالیٰ جو یہ فرماتا ہے کہ اس کے امر سے زمین آسمان قائم ہیں۔تو غور کرو جہاں اس قدر گرمی پڑتی ہے اور جہاں انسان کا نام ونشان نہ تھا ۔اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا بابر کت بنا دیا کہ کروڑ ہا مخلوق وہاں جاتی ہے اور ہر ملک اور قوم کے لوگ وہاں موجود ہوتے ہیں۔وہ میدان جہاں حج کے لئے لوگ جمع ہوتے ہیں،وہی جگہ ہے جہاں دانہ تھا نہ پانی۔ اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرو اصل بات یہی ہے کہ جو خدا چاہتا ہے کرتا ہے۔ویرانہ کو آبادی اور آبادی کو ویرانہ بنا دیتا ہے۔شہر  بابل کے ساتھ کیا کیا؟جس جگہ انسان کا منصوبہ تھا کہ آبادی ہو ،وہاں مشیت ایزدی سے ویرانہ بن گیا اور الووں کا مسکن ہو گیا اور جس جگہ انسان چاہتا تھا کہ ویرانہ ہو ،وہ دنیا بھر کے لوگوں کا مرجع ہو گیا ۔پس خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوا اور تدبیر پر بھروسہ کرنا حماقت ہے۔اپنی زندگی میں ایسی تبدیلی پیدا کر لو کہ معلوم ہو کہ گویا نئی زندگی ہے۔استغفار کی کثرت کرو۔جن لوگوں کو کثرت اشغال دنیا کے باعث کم فرصتی ہے،ان کو سب سے زیادہ ڈرنا چاہیے۔ملازمت پیشہ لوگوں سے اکثر فرائض خدا وندی فوت