پھر بیماری کے انسداد سے کیوں غفلت کی جائے۔گورنمنٹ پر جاہلانہ طور سے بد گمانی نہ کرو اور اگر تمہارا ہمسایہ بد گمانی کرتا ہے ،تو اس کی بد گمانی رفع کر نے کی کوشش کرو اور اسے سمجھاو۔انسان کہاں تک غفلت کرتا جائے گا۔اس دن سے ڈرنا چاہیے۔جب ایک دفعہ ہی وبا آپڑے اور سب کو تباہ کر ڈالے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ مصیبت کے وارد ہونے سے پہلے ہی جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔کیونکہ خوف خطر میں مبتلا ہونے کے وقت تو ہر شخص دعا اور رجوع الی اللہ کر سکتا ہے۔سعادت مندی یہی ہے کہ امن کے وقت دعا کی جائے۔انسان کو چاہیے کہ ان لوگوں کی حالت سے عبرت حاصل کرے جو اس خطرہ میں مبتلا ہیں۔یہاں سے تو بہت ہی قریب گاوں میں یہ بیماری پھیلی ہوئی ہے۔وہاں کے حالات دریافت کر کے ہر شخص قبل از وقت عبرت حاصل کر سکتا ہے،اس وقت تک ضلع جالندھر میں یہ مرض بہت ترقی پر ہے۔گو ضلع ہوشیار پور میں کچھ کمی ہے۔
نمازوں کو باقاعدہ التزام سے پڑھو تاہم میںیقین نہیں کرتا کہ وہ بالکل ناپید ہو جائیں گی۔ابھی اجاڑہ آنے والا ہے،اس
لئے پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آجاو ۔نمازوں کو باقاعدہ التزام کے ساتھ پڑھو۔بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں،یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں ،اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔بعض دفعہ وہ لوگ جن کے طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں۔کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے،کیونکہ اگرحفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے،تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا ؟سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض اوقات ادویات بے کار رہ جاتیں ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آسکتے۔نہ دوا کام آسکتی ہے نہ طبیب حاذق ،لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ابتلاء دیکھو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ابتلاء کہ بچے اور اس کی ماں کو کنعان سے بہر دور لے جانے
کا حکم ہوا اور وہ ایسی جگہ تھی جہاں نہ دانہ تھا اور نہ ہی پانی۔وہاں پہنچ کرحضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدکے حضور عرض کی کہ اے اللہ میں اپنی ذریت کو ایسی جگہ چھوڑتا ہوں جہاں دانہ پانی نہیں ہے۔حضرت سارہ کا ارادہ یہ تھا کہ کسی طرح سے اسماعیل مر جائے،اس لئے اس نے حضرت ابراہیم ؑ سے کہا کہ اسے کسی بے آب گیاہ جگہ میں چھوڑ آ۔حضرت ابراہیم ؑ کو یہ بات بری معلوم ہوئی ،مگر اللہ تعالیٰ