ہے۔قرآن شریف میں حکم ہے اطیعو اللہ واطیعو الرسول واولی الامر منکم(النساء:۶۰)یہاں اولی الامر کی اطاعت کا حکم صاف طور پر موجود ہے اور اگر کوئی شخص کہے کہ منکم میں گورنمنٹ داخل نہیں،تو یہ اس امر کی صریح غلطی ہے۔گورنمنٹ جو حکم شریعت کے مطابق دیتی ہے،وہ اسے منکم میں داخل کرتا ہے۔مثلاً جو شخص ہماری مخالفت نہیں کرتا ۔وہ ہم میں داخل ہے ۔اشارۃ النص کے طور پر قرآن مجید سے ثابت ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے حکم مان لینے چاہییں۔عام طور پر مسلمانوں کے لئے یہ لازم تھا کہ انسداد طاعون کے متعلق شکر گزاری کے میموریل گورنمنٹ کی خدمت میں بھیجتے،مگر یہاں بجائے شکر گزاری کے نا شکر گزاری ہو رہی ہے اور کوئی معقول وجہ ناراضگی کی بجز اس کے معلوم نہیں ہوتی کہ عورتوں کی نبض مرد ڈاکٹر دیکھتے ہیں۔سو اس بارہ میں یہ معلوم ہوا ہے کہ اول تو اس نقص کے معلوم ہو جانے پر گورنمنٹ نے اس شکایت کو رفع کر دیا ہے اور دوائیاں مقرر کر دی ہیں جو مستورات کا ملاحظہ کرتیں ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ایسا نہ بھی ہوتا ،تو بھی اعتراض کی گنجائش نہ ہوتی۔ خاص حالات میں پردہ ایسی صورت اور حالت میں کہ قہر خدا نازل ہو رہا ہو اور ہزاروں لوگ مر رہے ہوں۔پردہ کا اتنا تشدد جائز نہیںہے۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بادشاہ کی بیوی مر گئی،تو کوئی اس کو اٹھانے والا بھی نہیں رہا۔اب اس حالت میں پردہ کیا کر سکتا تھا۔مثل مشہور ہے۔مرتا کیا نہ کرتا۔مردوں ہی نے جنازہ اٹھایا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر بچہ رحم میں ہو تو کبھی مرد اس کو نکال سکتا ہے۔دین اسلام میں تنگی اور حرج نہیں۔جو شخص خوا مخواہ تنگی وحرج کرتا ہے،وہ اپنی نئی شریعت بناتا ہے۔گورنمنٹ نے بھی پردے میں کوئی تنگی نہیں کی اور اب قواعد بھی بہت آسان بنا دئے ہیں۔جو جو تجاویز اور اصلاحات لوگ پیش کرتے ہیں گورنمنٹ اسے توجہ سے سنتی اور ان پر مناسب اور مصلحر وقت کے موافق عمل کرتی ہے۔کوئی شخص مجھے یہ تو بتائے کہ پردہ میں نبض دکھانا کہاں منع ہے۔ سعادت کی راہیں اختیار کریں اصل بات جو قابل غور ہے،وہ یہ ہے کہ انسان کو نیک بختی اور تقویٰ کی طرف توجہ کرنی چاہیے اورسعادت کی  راہیں اختیار کرنی چاہییں۔تب ہی کچھ بنتا ہے۔ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتیٰ یغیروا ما بانفسھم(الرعد:۱۲)خدا تعالیٰ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا ۔جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو تبدیل نہ کرے۔خوا مخواہ کے طن فاسد کرنے اور بات کو انتہا تک پہنچانا بالکل بے ہودہ امر ہے۔سب سے ضروری بات یہ کہ لوگوں کو چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔نمازیں پڑھیں،زکواۃ دیں،اتلاف حق اور د کاریوں سے باز آئیں۔یہ امر بخوبی ثابت ہے کہ بعض وقت جب صرف ایک شخص ہی بدی کا ارتکاب کرتا ہے،تو وہ سارے گھر اور سارے شہر کی ہلاکت کا موجب ہو جاتی ہے۔پس بدیوں کو چھوڑ دو کہ وہ ہلاکت کا موجب ہیں۔ضلع جالندھر اور ہوشیار پورکے اس وقت کئی گاوں طاعون میں مبتلا ہیں۔