اب اے نئی تحقیق پر اترانے والو!خدا کے لئے ذرا انصاف کو کام میں لاو اور بتلاو کہ کیا وہ مذہب انسانی افترا ہو سکتا ہے،جس میں ایسے حقائق پہلے سے موجود ہوں اور تیرہ سو سال کی محنتوں ،تحقیقتوں اور جان کینوں کا نتیجہ ہوں۔یہ قرآن کریم اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معقولی معجزات ہیں اور دیکھو قلب دل کو کہتے ہیں اور قلب گردش کرنے والے کو بھی کہتے ہیں۔دل پر مدور دوران خون کا ہے۔آجکل کی تحقیق نے تو ایک عرصہ دراز کی محنت اور دماغ سوزی کے بعد دوران خون کا مسلہ دریافت کیا ،لیکن اسلام نے آج سے تیرہ سو سال پہلے ہی دل کا نام قلب رکھ کر اس صداقت کو مرکوز اور محفوظ کر دیا۔
طاعون کے اسباب اب پھر میں اصل مضمون کی طرف عود کرتا ہوں۔دوسرا سبب پلیدی،تیسرا سببب سمیت،چوتھا سبب تپ،پانچواں پھوڑے۔
ان اس امر میں ایک اختلاف ہے کہ آیا اصل سبب پھوڑے ہیں یا تپ۔ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ اصل تپ ہے اور یونانی اصل پھوڑے کو ٹھہراتے ہیں ۔میرے نزدیک بھی یونانیوں کے رائے صحیح ہے،کیونکہ تورات میں بھی پھوڑوں کا ہی ذکر ہے۔ہاں تپ لازمی ہے۔بعض اوقات تپ قائم مقام ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا ،بلکہ بیمار تپ ہونے سے پہلے ہی رخصت ہو جاتا ہے۔غرض اس مرض کا اصل تپ نہیں بلکہ پھوڑا ہے۔پھوڑا اگر چیرا جائے اور اس سے مواد نکال دیا جائے تو تپ بھی کم ہو جاتا ہے،یہاں تک کہ مریض تندرست ہو جاتا ہے۔بہر حال یہ مرض سخت مہلک اور خوفناک ہے۔اس لئے اس کو روکنے کی تدابیر بھی سخت لازمی ہیں،جن کے اجرا پر گورنمنٹ باوجود یکہ وہ سچی ہمدردی اور پوری غم خواری کے ساتھ رعیت کی بھلائی میں مصروف ہے،بد نام ہو گئی ہے۔جہاں تک نیک نیتی اور بنی نوع انسان کی اس غم خواری کے خیال سے جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈال رکھی ہے،میں نے ان تمام تجاویز پر جو گورنمنٹ نے مریضان طاعون کے متعلق شائع کی ہیں غور کیا ہے۔میں بلا خوف لومۃ لائم کہتا ہوں کہ وہ تجاویز بہت مناسب اور موزوں ہیں۔وہ یہ کہ اس گھر کو یا بعض اوقات عند الضرورت محلہ کو خالی کر دیا جائے۔اور مریض کو الگ رکھا جائے۔یہ بالکل درست اور عین مناسب ہے۔ہاں اگر کوئی یہ کہے کہ ایک بچہ طاعون سے بیمار ہو اور اسے موجب قواعد ماں باپ سے علیحدہ کر دیا جائے تو وہ ضرور مر جائے گا۔ایسے معترضین کو معلوم ہوا کہ ایسی صورت میں اس کے ماں باپ اس کے ہمراہ رہ سکیں گے،مگر وہ بھی طاعون کے مریض ہی شمار ہو کر ا تمام پابندیوں کے ماتحت ہوں گے،جو مبتلا شخص کے لئے ہیں۔انما الاعمال بالنیات موجودہ حالت میں گورنمنٹ کی نیت بالکل نیک ہے۔اسکی یہ منشاء ہر گز نہیں کہ خوا مخواہ لوگوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے۔
اولی الامر کی اطاعت اور میری تو سمجھ میں ہر گز نہیں آتا کہ لوگوں کو خوا مخواہ ایک دوسرے کو علیحدہ کر کے گورنمنٹ کو کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے ؟یہ گورنمنٹ پربد ظنی