غرض جب مرض کا پورا پورا اثر ہو چکتا ہے۔تو کہیں جا کر گورنمنٹ کے عمال کو پتہ چلتا ہے ۔اب اس ایک دو گھنٹے کے علاج سے کیا بن سکتا ہے۔وہ ہسپتال میں مرے گا نہیں تو کیا ہو گا۔پس یہ لوگوں کی اپنی نادانی اور حماقت ہے کہ اپنے قصور کو گورنمنٹ کے سر پر تھوپا جاتا ہے۔اگر اس میں گورنمنٹ کا کچھ قصور یا غلطی ہے تو تمہیں حق پہنچتا ہے کہ اسے ظاہر کرو ۔ورنہ اپنی غلطی کو گورنمنٹ کو متہم کرنا ناواجب ہے۔گورنمنٹ کی نیک نیتی اور خیر طلبی تو اس معاملے میں یہاں تک ہے کہ اس نے خود معززین سے مشورے لئے،پھر کاروائی کی،مگر چونکہ ہمارا ملکواقعی نیم وحشی اور جاہل ہے۔اس لئے ان کے ہاتھ میں سوائے غصہ اور بدظنی کے کچھ بھی نہیں۔اپنی غلط کاریوں کا الزام گورنمنٹ پر دیتے ہیں۔اور ذرا نہیں سوچتے۔کاش کہ یہ صد ہا انجمنیں،جو ہمارے ملک میں پھیل رہی ہیں ،اس کام کی طرف توجہ کریں اور جہلا کے دلوں سے یہ بد ظنیاں نکالنے کی کوشش کریں تو نی نوع کی کس قدر بھلائی ہو ۔تم لوگ غفلت کے لحافوں میں پڑے سو رہے ہو اور جن بے آراموں اور تکالیف میں تمہارے ہم جنس مبتلا ہیں،تمہیں ان کی خبر تک نہیں۔گورنمنٹ جس قدر روپیہ ان مصائب سے نجات دلانے کے لئے اپنی پیاری رعایا کے لئے صرف کر رہی ہے۔اگر چندہ کر کے وہ کرنا پڑتا اور یہ حکم ہوتا کہ گاوں گاوں کے لوگ یہ چندہ دیں تو کوئی شخص بھی یہ دینے کے لئے راضی نہ ہوتا ۔میں نے بھی ایک دوائی تیار کرنی چاہی ہے جس کی تیاری میں میں مصروف ہوں۔اللہ تعالیٰ شیخ رحمت اللہ صاحب کو جزائے خیر دے۔جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے دو صد روپیہ اس کار خیر میں دیا ہے ۔میں نے اس مرض کے اسباب کو خوب زیر نظر رکھ لیا ہے ۔بات یہ ہے کہ اس مرض کے کئی حصے ہوتے ہیں۔اس لئے طبیب کو مناسب اورلازم ہے کہ وہ ہر حصہ اور سبب کو رعایت کو ملحوظ رکھے۔ردی غزائیں اور سمی ہوائیں اس مرض کو بہت زیادہ پھیلاتی اور خطرناک بنا دیتی ہیں۔زمین کے نشیبہ حصہ سے ایسی ہوائیں تنفس کے ذریعہ غذا کے ذریعہ سے انسان کے خون میں سمیت اور عفونت پیدا کر دیتی ہیں ۔
جدید سائنسی تحقیقات سے اسلام کی تائید آجکل کی تحقیق میں طاعون کی جڑ کیڑے یا اجرام صغیرہ ثابت ہوئے ہیں ۔میں بھی
اس تحقیقات کو پسند کرتا ہوں کیونکہ اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی عظمت اور اسلا م کی صداقت ثابت ہوئی ہے۔
حدیث شریف میںجہاں طاعون کا ذکر آیا ہے وہاں نغف اس کا نام رکھا گیا ہے۔اور نغف اس کیڑے کو کہتے ہیں جو بکری اور اونٹ کی ناک سے نکلتا ہے اور اسے طاعون قرار دیا گیا ہے۔آجکل کی تحقیات پر بڑا فخر کیا جاتا ہے،مگر جس شخص نے مقدس اسلام کے بانی علیہ السلام کے پاک کلام کو پڑھا ہے۔اسے کس قدر لطف اور مزا آتا ہے جب وہ تیرہ سو سال پیشتر آپ کے پاک ہونٹوں سے نکلی ہوئی باتوں کو پورا ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔قرآن شریف نے بھی طاعون کو کیڑا ہی بتلایا ہے۔