تو ہاتف یہی آواز دیتا کہ تو مردودومخدول ہے۔ ایک دفعہ ایک مرید نے یہ آواز سن لی اور کہا کہ اب تو فیصلہ ہو گیا۔ اب ٹکریں مارنے سے کیا فائدہ ہو گا۔ وہ بہت رویا اور کہا کہ میں اس جناب کو چھوڑ کر کہاں جاؤں۔ اگر ملعون ہوں، تو ملعون ہی سہی۔ غنیمت ہے کہ مجھے ملعون تو کہا جاتا ہے۔ ابھی یہ باتیں مرید سے ہو رہیں تھیں کہ آواز آئی کہ تو مقبول ہے ۔سو یہ سب صدق وصبر کا نتیجہ تھا جو متقی میں ہونا شرط ہے۔ استقامت یہ جو فرمایا ہے کہ :وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْ فِیْنَا لَنَھْدِ یَنَّھُمْ سُبُلُنَا(العنکبوت۷۰)یعنی ہمارے راہ کے مجاہد راستہ پاویں گے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس راہ میں پیمبر کے ساتھ مل کر جدو جہد کرنا ہو گا۔ ایک دو گھنٹہ کے بعد بھاگ جانا مجاہد کا کام نہیں ۔بلکہ جان دینے کے لئے تیار رہنا اس کاکام ہے۔ سو متقی کی نشانی استقامت ہے ۔جیسے کہ فرمایا: اِنَ الَّذِیْنَ قَالُواْ رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا (حٰم السجدہ ۳۱)یعنی جنہوں نے کہا کہ رب ہمارا اللہ ہے اور استقامت دکھائی اور ہر طرف سے منہ پھیر کر اللہ کو ڈھونڈا۔ مطلب یہ کہ کامیابی استقامت پر موقوف ہے اور وہ اللہ کو پہنچاننا اور کسی ابتلا اور زلازل اور امتحان سے نہ ڈرنا ہے۔ ضرور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ مورد مخاطبہ ومکالمہ الہیٰ کی طرح ہو گا۔ ولی بننے کے لئے ابتلا ضروری ہیں بہت سے لوگ یہاں آتے ہیںاور چاہتے ہیں کہ پھونک مار کر عرش پر پہنچ جائیں اور واصلین سے ہو جایں ۔ایسے لوگ ٹھٹھا کرتے ہیں ۔وہ انبیا کے حالات کو دیکھیں ۔یہ غلطی ہے جو کہا جاتا ہے کہ کسی ولی کے پاس جا کر صد ہاولی فی الفور بن گئے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے: اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْ آاَنْ یَّقُوْلُوْ ااٰمَنَّا وَھُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ(العنکبوت۳)جب تک انسان آزمایا نہ جاوے فتن میں نہ ڈالا جاوے، وہ کب ولی بن سکتا ہے۔ ایک مجلس میں بایزید وعظ فرما رہے تھے۔ وہاں ایک مشائخ زادہ بھی تھا ،جو ایک لمبا سلسلہ رکھتا تھا۔ اس کو آپ سے اندرونی بغض تھا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خاصہ ہے کہ پرانے خاندانوں کو چھوڑ کر کسی اور کو لے لیتا ہے ۔جیسے بنی اسرائیل کو چھوڑ کر بنی اسمعیل کو لے لیا۔ کیونکہ وہ لوگ عیش وعشرت میں پڑ کر خدا کو بھول گئے ہوتے ہیں ۔وَتِلْکَ اَیَّامُ نُدَاوِلُھَا بَیْنَ النَّاسِ (آل عمران ۱۴۱)سو اس شیخ زادہ کو خیال آیا کہ یہ ایک معمولی خاندان کا آدمی ہے۔ کہاں سے ایسا خوارق آگیا کہ لوگ اس کی طرف جھکتے ہیں اور ہماری طرف نہیں آتے ۔یہ باتیں خدا تعالیٰ نے حضرت بایزید پر ظاہر کیں ،تو انھوں نے قصہ کے رنگ میں یہ بیان شروع کیا کہ ایک جگہ مجلس میں رات کے وقت ایک لمپ میں پانی سے ملا ہوا تیل جل رہا تھا۔ تیل اور پانی میں بحث ہوئی۔ کہ پانی نے تیل کو کہا کہ تو کثیف اور گندہ ہے اور باوجود کثافت کے میرے اوپر آتا ہے ۔میں ایک مصفا چیز ہوں اور طہارت کے لئے استعمال کیا جاتا ہوں لیکن نیچے ہوں ۔اس کا باعث کیا ہے؟تیل نے کہا کہ جس قدر صعوبتیں میں نے کھینچی ہیں، تو نے وہ کہاں جھیلی ہیں ۔جس کے باعث ی