اور بد اعمالیوں سے کلی اجتناب کریں؛ورنہ سخت خطرہ اور اندیشہ ہے اور ایک نہایت سہم ناک اور ترسناک نظارہ ہمارے سامنے ہے۔اب بتلاو کہ کیا ہم اب گورنمنٹ کو قصور وار ٹھہرائیں۔
پس میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہماری جماعت کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ جاہلوں کی روش اختیار کرے اور احمقوں کو تاہ اندیشوں کے نقش قدم پر چلے۔میں تم کو یقین دلاتا ہوں کہ گورنمنٹ نے جس قدر ہدایات جاری کیں ہیں،وہ صحت کے لئے مفید ہیں۔ہماری تواریخ کی کتابوں مثل طبری وغیرہ میںجو ہزار سال پہلے کی تصنیف ہے لکھا ہے کہ حضرت عمرؓ کے عہد میں جب لشکر اسلام ملک شام میں تھا تو وہاں وبا پڑی،جس پر لشکر اسلام کو پہاڑ بھیجنا پڑا ۔تو گویا یہ اس گورنمنٹ کا ہی مخترعہ نسخہ نہیں ،بلکہ گزشتہ اہل اسلام کے طر ز عمل سے بھی یوں ہی ثابت ہوتا ہے۔جس طرح انہوں نے نشیب کو چھوڑ کر پہاڑ کی بلندی کو اختیار کیا ۔اسی طرح اب بھی مرطوب اور نشیبی مکانات کو چھوڑ کر کھلے میدانوں میں مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔بو علی سینا نے بھی اس امر پر زور دیا ہے کہ جن گھروں میں وبا کا مرض ہو ان کی صفای کی جائے کیونکہ جب تک سبب موجود ہے۔نتیجہ زائل نہیں ہو سکتا۔طبیب کیا کر سکتا ہے۔زیادہ سے زیادہ ماشہ دو ماشہ دوائی دے گا ،مگر اس عفونت کو جو سانس کے ذریعہ سے انر چلی جاتی ہے،اسے دوائی کیا کرے گی اور ایسے گھر میں رہ کر طاعون کا کیا علاج ہو سکتا ہے۔لوگوں نے طاعون سے فوت شدہ لوگ نہیں دیکھے۔جس جگی طاعون کا مرض مر جاتا ہے وہ جگی ایسی عفونت آمیز ہو جاتی ہے کہ ناک نہیں دیا جا سکتا۔اس لئے گورنمنٹ کی تدابیر حفظ صحت کی نسبت بد ظنی کرنا ایک ناپاک خیال ہے۔گورنمنٹ نے اس مرض کی دفیعیہ کے لئے جو کچھ سوچا ہے،وہ بالکل صحیح ہے۔اس لئے ہماری جماعت کے لئے لازم ہے وہ اس بارہ میں گورنمنٹ کی مدد کریں اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں اور دوسرے لوگوں کو خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان سمجھائیں اور غلط فہمیوں کو دور کریں۔جیسا کہ بعض لوگوں نے مشہور کر رکھا ہے کہ گورنمنت نے رعایا کو مارنے کے لئے یہ تجویز کی ہے۔بھلا کوئی ان نادانوں سے پوچھے تو سہی کہ کیا یہ گورنمنٹ لکھو کھہاروپیہ لوگوں کو مارنے کے لئے صرف کر رہی ہے اور اسے اس قدر تکالیف برداشت کرنے کا شوق ہے؟نہیں۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ طاعون بہت مہلک مرض ہے۔
طاعون کیا ہوتی ہے؟ سب سے پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ طاعون کیا ہوتی ہے ۔یہ ایک شدید تپ ہوتا ہے،جس کے ساتھ غشی،متلی،درد سر اور نسیان ہوتا
ہے۔لرزہ بہت ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہی بے چینی اور سراسمیگی ہوتی ہے۔ پھر چند روز کے بعد بن ران یا گردن یا پس گوش ایک پھنسی نکل آتی ہے،جو کبھی تو چھوٹی سی ہوتی ہے اور کبھی بڑی۔یہاں تک کہ سرسام ہو جاتا ہے اور گالباً یہ سب علامات چوبیس گھنٹے کے اندر ظاہر ہو جاتیں ہیں ۔عموماًا یسے مریضوں کا گورنمنٹ کو پتہ بہ مشکل لگتا ہے۔کیونکہ بیس بائیس گھنٹے تک تو لوگ اسے معمولی بخار سمجھ کر لا پرواہ رہتے ہیں،مگر بعد ازاں آثار طاعون دیکھ کر اسے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔