بالشت بھر زمین کے لئے مرتا ہے،سازشیں کرتا ہے اور مقدمات کی تکالیف اور زیر باریاں برداشت کرتا ہے وہ سوچے کہ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر بھی ویسا ہی قلق اور کرب اپنے اندر پاتا ہے؟ہر گز نہیں ۔نادان انسان جب شدید مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے،تو اس وقت خدا تعالیٰ کو پکارتا ہے۔جس پر اسے یونہی آزمائشی طور پر مہلت مل جاتی ہے،لیکن بعد اس کے پھر وہ ایسی چالیں چلتا ہے کہ گویا اس نے مرنا ہی نہیں۔معمولی امراض میں مبتلا ہو کر مر جانے پر اب لوگوں کے دلوں پر بہت تھوڑا اثر ہوتا ہے جو صرف دو چار یوم برائے نام قائم رہتا ہے۔بعد اس کے پھر وہی ہنسی مخول اور مزخر فات شروع ہو جاتے ہیں۔قبر ستان میں جاتے ہیں اور اپنے ہاتھوں سے مردے گاڑتے ہیں،مگر یہ کبھی نہیں سوچتے کہ آخر ایک دن مر کر ہم نے بھی خدا کے حضور جانا ہے۔اس لئے اب خدا تعالیٰ نے دیکھا کہ معمولی اموات کچھ اثر انداز نہیں ہوتیں ۔امرتسر،لاہور میں روزانہ اموات کی تعداد ساٹھ ستر ہو گئی ہے اور کلکتہ وبمئبی میں اس سے بھی زیادہ لوگ مرتے ہوں گے۔گو نفس الامر میں میں یہ ایک خوفناک نظارہ ہے،مگر کون اس پر غور کرتا ہے۔کوتاہ اندیشہ انسان کہہ اٹھتا ہے کہ اس قدر اموات آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ہیں،اس لئے ان کی چنداں پرواہ نہیں کرتا۔چونکہ دوسروں کی موت سے خود کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ،اس لئے اللہ تعالیٰ نے دوسرا نسخہ اختیار کیا ہے اور طاعون کے ذریعہ سے لوگوں کو متنبی کرنا چاہا ہے۔اس لئے میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہ خیال کر کے کہ اب جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہونا ہی ہے۔ایسا نہ ہو کہ تم خدا تعالیٰ کو بھی ناراض کرو اور گورنمنٹ کو خطا کار ٹھہراو ۔گورنمنٹ کو بد نام کرنے سے کیا فائدہ۔طاعون تمہاری اپنی شامت مال سے آئی،اس لئے گورنمنٹ پر بھی تمہاری بدولت آفت آئی۔ طاعون کے ایام میں گورنمنٹ کے اقدامات درست تھے گورنمنٹ کو اگر تمہارے ساتھ سچی  ہمدردی نہیں،تو تم خود ہی بتلاو کہ وہ کیوں اس قدر روپیہ اس مرض کے تدارک پر خرچ کرتی ہے۔شفا خانے اور ڈاکٹر کیوں مقرر کیے ہیں۔پولیس کے ہزارو آدمی کیوں انتظام کے لئے مقرر کیے جاتے ہیں۔کیا گورنمنٹ کو کچھ شوق ہے کہ اس قدر اخراجات کثیر برداشت کرے؟نہیں بلکہ ملک کی یہ حالت دیکھ کر وہ اندر ہی اندر مادر مہربان کی طرح بے چین ہو رہی ہے۔گورنمنٹ بھی رعایا ہی سے ہے۔لوگوں کو شاید خبر نہیں ۔حدیث شریف میںآیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ طاعون ہی سے مارے جائیں گے۔منجموں کی بارتیں گو قابل ذکر نہیں۔مگر ہند اور یورپ کے منجم کہتے ہیں کہ نومبر۱۸۹۹؁ء میں ستارے جمع ہوں گے اور خوفناک وقت آئے گا ۔ہمیں تو اس کی چندا پروا نہیں تھی ،مگر ہم کو تو یہ غم ہے کہ الہامات میں بھی آئندہ دو جاڑوں کا سخت اندیشہ ہے؛بشر طیکہ لوگ راہ راست اختیار نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہ کریں ۔بد کاریاں،زنا کاریاں،چوریاںاور ہر قسم کے مکرو فریب اور بد اعمال چھوڑ کر نیکی اختیار کریں۔