سزاوار نہیں ۔ہمارے والد صاحب مرحوم بھی مشہورطبیب تھے۔جن کا پچاس برس کا تجربہ تھا۔وہ فرمایا کرتے تھے کہ حکیمی نسخہ کوئی نہیںاور اصل حقیقت بھی یہی ہے کہ تصرف اللہ کا خانہ خالی رہتا ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے والا سعادت مند ہے۔انسان مصیبت میںبد دماغ نہ ہو اور غیر اللہ پر بھروسہ نہ کرے۔یکدفعہ ہی خفیف عوارض شدید ہونے لگ جاتے ہیں۔کبھی قلب کا علاج کرتے کرتے دماغ پر آفت آجاتی ہے۔کبھی سردی کے پہلو پر علاج کرتے کرتے گرمی کا زور چڑھ جاتا ہے۔کون ان بیماریوں پر حاوی ہو سکتا ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ کرنا چاہیے۔انسان ان حشرات الارض اور سمیات کوکب گن سکتا ہے،صرف بیماریوں کو بھی نہیں گن سکتا ۔لکھا ہے کہ صرف آنکھ ہی کی تین ہزار بیماریاں ہیں۔بعض بیماریاں ایسی ہوتی ہیں کہ وہ ایسے طور پر غلبی کرتیں ہیں کہ ڈاکٹر نسخہ نہیں لکھ چکتا جو بیمار کا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔
پس اللہ تعالیٰ ہی کی پناہ میں آنا چاہیے ۔آجکل دیکھا جا تا ہے کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے سخت غفلت اور استغناء ہے۔قبریں کھودیں جا رہی ہیں۔فرشتے ہلاکت کا مواد اکٹھا کر رہے ہیں اور لوگ کاٹے جا رہے ہیں ،مگر اس کے باوجود بھی نادان لوگ دھیان نہیں کرتے۔یہ وباء قادیان سے ۳۵ کوس کے فاصلے پر ہے گو شدت حرارت کی وجہ سے کم ہوتی جاتی ہے،مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ شدت حرارت کے ایام میں کم ہو گئی تو آئیندہ سال نہ آئے گی۔مجھے چند مرتبہ بذریعہ الہام اور رویا کے معلوم ہو ا ہے کہ یہ وباء اس ملک میں زور سے پھیلے گی۔جیسے میں پیشتر ازیں شائع کر چکا ہوں کہ سیاہ رنگ کے پودے لگائے جا رہے ہیں ۔لگانے والوں سے پوچھا،تو انہوں نے طاعون کے درضت بتلائے۔یہ بڑی خطرناک بات ہے۔
وعیدی پیش گوئیوں توبہ اور استغفار سے ٹل سکتی ہیں ایسا ہی میں یہ بھی بتلا چکا ہوں کہ وعید کی پیش گوئیاں توبہ اور
استغفار سے ٹل سکتی ہیں ۔یہاں تک کہ دوزخ کا وعید بھی ٹل سکتا ہے۔اگر لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں اور اس کی طرف توجہ کریں،تو اللہ تعالیٰ اس ملک اور خطہ کو چاہے گا ،تو محفوظ رکھ لے گا۔وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔مگر فرماتا ہے۔قل ما یعبوابکم ربی لو لا دعاو کم(الفرقان:۷۸)ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم میری بندگی نہ کرو ،تو پرواہ کیا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ گلی گلی میں حکیم ہیں۔ہر جگہ ڈاکٹر موجود ہیں۔شفا خانے کھلے ہوئے ہیں۔ان کا علاج کرکے تندرست ہو جائیں گے،مگر ان کو معلوم نہیں کہ بمئبی اور کراچی میں کئی بڑے بڑے ڈاکٹر خود اس مرض میں مبتلا ہو کر چل بسے ہیں اور جو لوگ مریضوں کی خدمت پر مامور ہو کر گئے تھے وہ خود ہی اس مرض کا شکار ہو گئے اس طرح سے اللہ تعالیٰ اپنے تصرفات کا مشاہدہ کراتا ہے۔کیونکہ محض ڈاکٹروں یا ان کے علاج پر بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں۔خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ دوسرے عالم پر بھی ایمان پیدا ہو۔اب لوگ زور لگا کر دکھاویں کہ کس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کو بدل سکتے ہیں۔جس طرح انسان ایک