کافور کے خواص اس لیے مسلمان کو مرتے وقت کافور کا استعمال کرنا سنت ہے۔یہ اس لئے کہ کافور ایک ایسی چیز ہے جو وباقی کیڑوں کو مارتی اورسمیت کو
دور کرتی ہے اور انسان کو ٹھنڈک پہنچاتی ہے اور بہت سی عفونتی بیماریوں کو روکتی ہے۔اس لئے قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ مومنوں کو کافوری شربت پلایا جائے گا ۔آجکل کی تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہو رہا ہے کہ کوفور جیسا کہ ہیضہ کے لئے مفید ہے،ویسا ہی طاعون مین بہت فائدہ بخش ہے۔میں اپنی جماعت کو بتلاتاہوں کہ یہ بہت مفید چیز ہے اور میرا اعتقاد ہے۔کیونکہ قرآن مجید نے بتلایا ہے کہ یہ جلن کو روکتا ہے اور دل کو سکینت اور تفریح دیتا ہے اور ہمیں رغبت دلائی کہ ہم کافور کا استعمال کریں۔آجکل ایک اور بات ثابت ہوئی ہے کہ کوفور کے ساتھ جدوار استعمال کیا جائے تو ازمفید ہے۔جدوار کو سرکہ میں ملا کر گولیاں بنا لینی چاہئیںاور دو دو رتی کی گولیاں بنا کر تازہ لسی کے ساتھ استعمال کی جائیں۔اگر عورتوں اور بچوں کو یہ گولیاں روز مرہ استعمال کرائی جائیں،تو بہت مفید ہیں۔ہم بھی ایک دوائی طاعون کے لئے تیار کر رہے ہیںجو خدا تعالیٰ نے چاہا تو بہت مفید ہو گی۔دراصل یہ مرض کم بخت ایسا ہے کہ کسی علاج پر بھروسہ کرنا غلطی ہے،جب تک اللہ تعالیٰ کا ہی فضل نہ ہو ۔مگر عام اسباب تندرستی اور قانون صحت میں سے حفظ ماتقدم بھی ایک عمدہ چیز ہے اور فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔پس مناسب ہے کہ سمیت اور عفونت والی چیز وں سے پرہیز کیا جائے اور بعض تیز غذاوں سے جو دوران خون کو تیز کرتی ہیں۔جیسا کہ بہت گوشت اور بہت میٹھا یا حد سے زیادہ دھوپ میں پھرنا یا سخت اور شدید محنت کرنا ان سے پرہیز کرنا مناسب ہے۔
رعایت اسباب منع نہیں ہے رعایت اسباب ہماری اسلامی شریعت میں منع نہیں ہے۔کسی شخس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے
دریافتکیا کہ ہم دوا کریں۔آپؐ نے جواب فرمایا:کہ ہاں دوا کرو۔کوئی مرض ایسا نہیں،جس کی دوا نہ ہو۔ہاں یہ بالکل سچی بات ہے کہ کوئی بید یا ڈاکٹر یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس کی فلاں دوا ضرور فائدہ دے گی۔اگر ایسا ہوتا تو کیوئی شخص کیوں مرتا۔طبیبوں اور ڈاکٹروں کو چاہیے کہ متقی بن جاویں۔دوا بھی کریں اور دعا بھی۔تنہائی میںبہت بہت دعائیں مانگیں۔جن لوگوں نے گھمنڈ کیا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان کو ہی ذلیل کیا۔لکھا ہے کہ جالینوس کو اسہال کے بند کرنے کا بڑا دعویٰ تھا۔خدا کی شان کہ وہ خود ہی اس مرض میں مبتلا ہوا۔اسی طرح بعض طبیب مدقوق ہو کر اور بعض مسلول ہو کر اس دنیا سے چل دئیے۔
اللہ تعالیٰ پر ہی کامل بھروسہ کرنا چاہیے اس بیان سے میری غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دعویٰ کی حقیقت کھول دی اور ان کی بیجا شیخی کا بھانڈا پھوڑ کر رکھ دیا۔جس قسم کا دعویٰ کیا اسی دعویٰ میںپست اور ذلیل ہوئے۔پس معلوم ہوا کہ انسان کو کسی قسم کا دعویٰ