طاعون عذاب ہے اللہ تعالیٰ نے اس کانام رجز رکھا ہے۔رجز عذاب کو بھی کہتے ہیں۔لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اونٹ کی بن ران میں یہ مرض  ہوتا ہے اور اس میںایک کیڑا پڑ جاتا ہے جسے نغف کہتے ہیں۔اس سے ایک لطیف نکتی سمجھ میں آتا ہے اور وہ یہ کہ چونکہ اونٹ کی فطرت میں ایک قسم کی سر کشی پائی جاتی ہے۔جس کو یہ مرض ہوتی ہے تو اس سے یہ پایا گیا ہے کہ جب انسانوں میں بھی سر کشی کا مادہ پایا جاتا ہے،تو اس وقت ان پر یہ عذاب الیم نازل ہوتا ہے۔رجز کے معنی لغت میںدوام کے بھی آتے ہیں اور یہ مرض بھی دیر پا ہوتا ہے اور گھر سے سب کو رخصت کر کے نکلتا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بلا گھروں کی صفائی کر دینے والی،بچوں کو یتیم بناتی اور بے شمار بیکس عورتوں کو بیوہ بنا دیتی ہے۔ غیر صحت مندانہ ماحول بھی طاعون کاباعث ہے پھر رجز کے معنی میں غور کرنے سے اس کا باعث بھی سمجھ میں  آجاتا ہے کہ یہ مرض پلیدی اور ناپاکی سے پیدا ہوتا ہے۔جہاں اچھی طرح صفائی نہیں ہوتی اور مکان کی دیواریں بد نما اور قبروں کا نمونہ ہوتیں ہیں۔نہ روشنی کا انتظام ہوتا ہے،نہ تازہ ہوا آسکتی ہے۔وہاں عفونت کا زہریلہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے ،جس کے باعث یہ بیماری پیدا ہو جاتی ہے۔قرآن مجید میں جو آیا ہے۔والرجز فا ھجر(المدثر:۶)کہ ہر ایک قسم کی پلیدگی سے پرہیز کرو۔ہجر دور چلے جانے کو کہتے ہیں۔جس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لئے ظاہری پاکیزگی اورصفائی بھی ضروری ہے۔کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔ ظاہری پاکیزگی کا اثر باطن پر انسان کی دو حالتیں ہوتیں ہیں۔جو شخص باطنی طہارت پر قائم ہونا چاہتا ہے وہ ظاہری پاکیزگی کابھی لحاظ  رکھے۔پھر ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین(البقرہ:۲۲۳)یعنی جو لوگ باطنی اور ظاہری پاکیزگی کے طالب ہیں۔میں ان کو دوست رکھتا ہوں۔ظاہری پاکیزگی طہارت کے ممد اور معاون ہے۔اگر انسان اسے ترک کر دے اور پاخانہ پھر کر بھی طہارت نہ کرے،تو باطنی پاکیزگی پاس بھی نہیں پھٹکتی۔پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے۔اس لئے ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کے دن ضرور غسل کرے۔ہر نماز میں وضو کرے۔جماعت کھڑی ہو تو خوشبو لگائے۔عیدین اور جمعہ میں جو خوشبو لگانے کا حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے اجتماع کے وقت عفونت کا ندیشہ ہوتا ہے۔اس لئے غسل کرنے اور ساف کپڑے پہننے اور خوشبو لگا نے سے سمیت(زہر)اور عفونت سے روک ہو گی۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ قانون مقرر کیا ہے۔ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔