ا ایک قہری نشان ہے جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے ۔یہ تیسرا نشان قیامت کا ہے۔اس سے قیامت صغریٰ پیدا ہوتی ہے۔شاید وہ لوگ جن کو خبر نہیں،اس کو ایک افسانہ سمجھیں کہ جب یہ مرض یورپ اور بلاد شام اور عراق عجم میں پھیلی تھی وہاں اس کا ڈیرہ جم گیا تھا۔ ابھی اس ملک میں نووارد ہے۔اس لئے یہاں کے لوگوں کو اس کے اخلاق اور عادات کی کچھ خبر نہیں۔ایک طرف تو یہ لوگ خداتعالیٰ سے بے خوف اور بے خبر ہیںاور توبہ اور استغفار نہیں کرتے اور دوسری طرف گورنمنٹ کی تجاویز پر بھی عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے اور ان تجاویز کو بد ظنی کی نگاہ سے دیکھتے ہیںاور مخالف کا شور مچاتے ہیں۔
میں سچ کہتا ہوں کہ مداہنہ کے طور پر کسی کی تعریف کرنا ہمارا کام نہیں۔یہ اصول ہے کہ جس گاوں میں یہ بیماری پھیلی ہوئی ہو ،وہاں کے لوگ الگ کیے جائین اور اس کی آمدورفت کے راستے بند کر دئے جائیں اور مریضوں کو ایک کھلے میدان میں رکھا جائے اور بسا اوقات سارے گاوں کو اکگ کر دیا جائے۔گویا اس سر زمین سے سب کو نکال دیا جائے۔نہایت مفید اور ضروری ہے۔ہماری کتابوؓ سے بھی اور تورات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس مرض کے مواد زمین ہی سے شروع ہوتے ہیں۔یہ خیال کیا جات ہے کہ یہ مرض چوہوں کے ذریعہ سے پھیلتا ہے۔یہ بھی منجملہ دیگر اسباب کے ایک سبب ہے ۔دراصل جو زمین بد کاریوں اور جفا کاریوں سے *** ہو جاتی ہے،اس میں یہ سمیت(زہر)پیدا ہو جاتی ہے اور بڑے بڑے خوفناک طریقوں پر وہ مبتلا عذاب ہو جاتی ہے،مگر کوئی ہمیں یہ تو بتائے کہ گورنمنٹ نے کیا برائی کی جو یہ کہا کہ وہ با زدہ مکان کو چھوڑ دو ۔جو کام ہماری بھلائی کے لئے ہو اس میں برائی کا خیال پیدا کرنا دانش مند انسان کا کام نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ اگر گورنمنٹ یہ حکم دے دے کہ طاعون کی مرض میں کوئی شخص گھر سے نہ نکلے،تو لوگ اس حکم کو بھی زیادہ نا گوار سمجھیں گے،کیونکہ جب گاؤں میں طاعون پھیلے گی اور لوگ مرنے لگیں گے،تو کوئی شخص بھی برداشت نہیں کرے گا کہ اس گھر میں رہے۔دیکھو جس گھر یا مکان سے کسی وقت سانپ نکلے تو اس گھر یا مکان میں داخل ہونے سے لوگ دہشت کھاتے ہیں،خواہ وہ سانپ مار بھی دیا جائے؛تاہم تاریکی کے وقت اس مکان میں کوئی شخص داخل نہیں ہوتا ۔یہ انسان کی ایک طبعی عادت ہے۔پھر حیرت ہے کہ ایک انسان اندیشہ کی جگہ سے واقف ہو اور پھر امن وچین کے ساتھ اس میں رہے۔کیا ہوسکتا ہے کہ جس گھر سے مردہ پر مردہ نکلنا شروع ہو جائے،تو اہل خانہ اس میں امن سے بیٹھے رہیں؟ہر گز نہیں۔بلکہ وہ خود ہی اس گھر کو فی الفور چھوڑ دیں گے اور اسے منحوس سمجھ کر اس سے کنارہ کر جائیں گے۔اگر یہ لوگ اسی حالت میں چھوڑ دیے جاتے اور گورنمنٹ کسی قسم کی مداخلت نہ کرتی تو پھر بھی یہ لوگ خود بخود وہی کرتے جو آج گورنمنٹ کر رہی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو طاعون کی مرض کی خبر نہیں اور وہ اس کو نزلہ وزکام کی طرح کی ایک عام مرض سمجھ لیتے ہیں۔