شدید ابتلا ہے کہ جس کی وجہ سے بمبئی پونا اور بعض دیگر مقامات میں لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔
غرض گورنمنٹ نے ان تدابیر کے اختیار کرنے میں جو نیکی سوچی ہے درحقیقت اس میں نیکی ہی ہے۔مگر اسے بدی قرار دیا جات ہے۔یہ نہویت افسوس کی بات ہے کہ جس شخص سے نیکی کی جائے ،وہ اس نیکی کو بدی سمجھتا ہے۔پھر اس پر مزید حیرت اور تعجب یہ ہے کہ گورنمنٹ نے یہ تدابیر انسداد مرض کچھ اپنے گھر سے وضع نہیں کیں بلکہ یونانی اطباء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ جس گھر میں طوعون ہو جائے،وہ نہ صرف اس گھر بلکہ شہر اور ملک تک کا صفایا کر دیتی ہے۔اطباء نے اس کی بہت سی نظریں بھی دی ہیں۔کہ طاعون جیسی خوف ناک مرض نے بھی بس نہیں کیا جب تک کہ جنگل کو آبادی نہیں بنا دیا اور اسے اجاڑ کر نہیں رکھ دیا ۔کی اکثر لوگوں کو خبر ہی نہیں ہے۔
مجھے افسوس ہے کہ باوجودیکہ یہ خطر ناک مرض بہت بری طرح پھیل رہی ہے اور ملک کہ ایک بڑے بھاری حصہ کو تباہ کر دینے کی دھمکی دے رہا ہے؛تا ہم میں نہیں دیکھتا کہ لوگوں کو ایک کھا جانے والا غم پیدا ہوا ہو۔جس کی وجہ سے وہ توبہ اور استغفار میں مصروف ہوئے ہوں۔میں نہیں دیکھتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوں یا نمازوں کی پابندی کا لتزام کرتے ہوں بلکہ جہاں تک دیکھا جاتا ہے ۔ہر جگہ ظلم اور بد اخلاقی کے طریقے استعمال میں آ رہے ہیں۔مرض طاعون کا قاعدہ ہے کہ وہ پرواز کر کے پرندے کی طرح دوسرے مقام پر جاپہنچتی ہے۔اس کی رفتار میں ایسا نظام نہیں ہے کہ وہ منزل بہ منزل جائے بلکہ دو چار سو کوس کا فاصلہ طے کر کے یکلخت دوسرے مقام پر جا پہنچتی ہے۔موجودہ حالات میں بمبئی اور جلندھر کے واقعات پر ہی غور کرو کہ ہر دو مقامات پر کس قدر فاصلہ ہے۔اب بتلاو کہ انسان اس کے جالندھر پہنچنے کی بابت کیا نظام رفتار قائم کر سکتا ہے۔الغرض اس کی رفتار کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ۔آج عافیت سے گزر رہی ہے،نہ معلوم کل کیا ہو۔یہ نہایت خطر ناک مرض ہے۔اور اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔بعض اوقت ساٹھ ساٹھ سال تک اس کا دورہ ہوتا ہے جو ایک مسلمہ امر ہے۔ہیضہ کی طرح نہیں کہ ساون بھادوں کے مہینے میں آگیا اور بیس پچیس دن دورہ کر کے رخصت ہو گیا ۔طوعون کو حکیموں نے نیزہ سے مارنے والی لکھا ہے۔طاعون مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا نشانہ خطا نہیں جاتا اور اس کے باعث کثرت سے اموات ہوتی ہیں۔تورات میں بھی اس کا ذکر ہے۔حضرت موسیٰ کے وقت یہ مرض یہودیوں میں پڑی تھی۔تورات میں جہاں خدا نے پھوڑون کی مار سے ڈرایا ہے،اس سے طاعون ہی مراد ہے۔قرآن کریم میں یہودیوں کو نافرمانی کی وجہ سے طاعون سے ہلاک کرنے کا ذکر ہے۔
طاعون کے آنے کی وجہ تورات اور قرآن کریم کے ان مقامات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مرض انسان کی نافرمانی اور بد کاری سے تعلق رکھتی ہے ،
کیونکہ سنت اللہ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ اقوام معصیت کے وقت اسی بیماری سے ہلاک ہوئیں۔یہ خدا تعالیٰ کا