دلیل کے رنگ میں پیش کیا ہے ۔بعض امراض اس ہیبت اور شدت سے پھیلتی ہیں کہ جن لوگوں نے ان کا دورا دیکھا ہو گا ،وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قیامت کا نمونہ ہوتا ہے۔
منجملہ ان ہیبت ناک امراض کے ایک طاعون بھی ہے۔جو اس وقت ہمارے ملک میں پڑی ہوئی ہے اور جس نے کراچی اور بمبئی میں بہت کچھ صفائی کر دی ہے اور اب پہاڑ پر سے (بالم پور)ونیزہ کلکتہ سے طاعوں پھیلنے کی متوحش خبریں موصول ہوئی ہیں۔غرض یہ ایک بڑا بھاری خطرہ ہے جو اس وقت سامنے ہے ۔اس لئے میری اس تقریر کرنے سے غرض صرف یہ ہے کہ چونکہ انسان کو بڑے بڑے ابتلا پیش آتے رہتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولنبلونکم بشی (البقرہ:۱۵۶)یعنی ہم تمہیں آزماتے رہیں گے کبھی ڈر سے اور کبھی مالوںمیں نقصان کرنے سے اور کبھی ثمرات کو تلف کرنے سے۔
اتلاف ثمرات سے مراد اتلاف ثمرات سے مراد تفاسیر میں اولاد بھی لکھی ہے اور اسی میں کوششوں کا جائع ہونا بھی ہے ۔مثلاً حصول علم کی کوشش
تجارت میں کامیابی کی کوشش زمینداری کی کوشش غرض ان کوششوں کا ضائع ہونا ایک بڑی مصیبت ہوتی ہے۔انسان کو ہر وقت خیال ہوتا ہے کہ کامیاب ہو جاوں گا ،مگر خدا تعالیٰ کے علم میں اس کی مصلحت کا تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ ناکام رہے یا کھیتی پیدا نہیں ہوتی یا تجارت میں کامیاب نہیں ہوتا ۔
طاعون ۔ایک قہری نشان آیت بالا سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار قسم کے امتحان رکھے ہیں۔اول خوف۔دوم نقصان مال۔سوم
نقصان جان اورچہارم تلف ثمرات۔مگر یہ ایک دہشت ناک مقام اور خوف کی جگہ ہے کہ اس طاعون کی بیماری میں یہ ہر چار امتحان مجموعی طور پر اکٹھے ہو گئے ہیں ۔جن لوگوں کو واقعات حاضرہ ہے کہ اس وقت کیا ہو رہا ہے اور انسان کیا کچھ بھگت رہے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ واردات طوعون سے در حقیقت یہ چار امتحان یکے بعد دیگرے پیش آجاتے ہیں۔یہی نہیں کہ آدمی مر جاتا ہے،بلکہ گورنمنٹ انگلشیہ نے ایک خاص اور اشد ضرورت کی وجہ سے اور پھر مصلحت کی بنا پر جیسا کہ ایک مادر مہربان کو بعض دفعہ اپنے بچوں کی غورو پرداخت اور نگہداشت میں پیش آجاتی ہے۔یہ قانون پاس کیا ہے کہ جس گھر میں طاعون کی واردات ہو ۔اس گھر سے تمام رہنے والے باہر نکال دئے جائیں۔اور عند الضرورت ہمسائے اور محلہ دار بھی اور پھر اشد ضرورت کی صورت میں گاؤں کا گاؤں ہی خالی کر دیا جائے۔بیمار الگ رکھے جائیں اور تندرست الگ۔اور وہ مقام جہاں ایسے لوگ رکھے جائیں کھلی ہوا میں ایسی جگہ پر ہو جس کے نشیب میں پانی نہ ہو اور تازہ ہوا کی خوب آمدورفت ہو سکے۔اس کے متصل ہی قبرستان بھی ہو ،تا کہ مرنے والے کو جلدی دفن کیا جاسکے۔تا ایسا نہ ہو کہ اس کے تعفن سے ہوا زیادہ زہریلی ہو جائے۔یہ ایک ایسا