رہ سکتی۔قیاس سے مجہولات کا پتہ لگ سکتا ہے اور انسان معلوم کر سکتا ہے۔مثلاً اگر ہم غور کریں کہ ہمارے باپ دادے کہان ہیں اور اسی ایک بات کو سوچیں،تو ہمیں یہ مان لینا پڑے گا کہ ہم سب کو بھی اسی راستے پر چلنا ہو گا ،جس پر وہ گئے ہیں۔نادان ہے وہ انسان جس کے سامنے ہزار ہا نمونے ہو ں اور پھر بھی وہ ان سے سبق حاصل نہ کرے اور عقل نہ سیکھے۔عموماً دیکھا گیا ہے اور یہ ایک مانی ہو ئی بات ہے کہ ہر گاوں اور شہر میں زندہ لوگوں سے قبریں روز بروز زیادہ ہوتی جارہی ہیں اور بعض پرانے لوگوں کی قبریں مخفی اور بعض ظاہر ہوتی ہیں۔پھر بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ جب کسی شہر میں کنواں کھودا جاتا ہے ،تو اس کی مٹی میں سے ہڈیاں نکلتی ہیں۔گویا عام طور پر زمین کے نیچے ہر جگہ قبریں ہی قبریں موجود ہیں۔یہ دوسری بات ہے کہ وہ ظاہر طور پر نمو دار نہ ہوں۔جس سے انسان کے نابود شدہ طبقہ کا پتہ لگ سکتا ہے۔ دوسری دلیل اس زمانہ کے وجود پر یہ ہے کہ جس طرح پر کھیت میں سبزہ نکلتا ہے جو بہت خوشنما معلوم ہوتا ہے۔مگر پھر ایک زمانہ اس پر آتا ہے کہ وہ رفتہ رفتہ ہو کر خشک ہونے لگتا ہے اور پھر اس پر ایک دوسری حالت آتی ہے کہ وہ گرنے لگتا ہے۔تو اس وقت جب اس طرح نقصان ہونے لگتاہے تو بونے والا کسان اسے خودہی کاٹ ڈالتا ہے تا ایسا نہ ہو کہ وہ اس طرح اڑ اڑ کر ضائع جائے۔ایسا ہی دنیا خداتعالی کا کھیت ہے۔جس طرح زمیندار مصلحت اور انجام بینی سے کبھی اپنے کھیت کو کچا ہی کاٹ لیتا ہے اوت کبھی ذراپختہ ہونے پر کاٹتا ہے۔اسی طرح سے انسان بھی پرورش پا کرخداوندی مشیّت اور ارادے کے موافق ٹھیک اپنے اپنے وقت پر کاٹے جاتے ہیں۔زمیندار کے فعل سے سبق اور عبرت حاصل کرنی چاہیے۔کیونکہ انسان کی زندگی کا بھی ٹھیک یہی طرز ہے۔جس طرح سے بعض دانے اگنے بھی نہیں پاتے بلکہ زمین کے اندر ہی اندر ضائع ہو جاتے ہیں۔اسی طرح بعض بچے شکم مادرہی ضائع ہو جاتے ہیں۔پھر بعض دانے پیدا ہونے کے چند روز بعد ضائع ہو جاتے ہیں۔ٹھیک اسی قانون اور عمل کے موافق انسان بھی بچہ،جوان اور بوڑھا ہوتا ہے اور خداتعالی کی مرضی کی درانتی اسے وقتًا فوقتًا مصلحت الہی سے کاٹتی رہتی ہے۔کبھی بچے مرتے ہیں جن کو کہتے ہیں کہ اٹھرا سے مرگئے۔صحیح البدن، توانا اور تندرست جوان بھی مرتے ہیں۔پھر عمر رسید ہو کر پیر ناتوان بھی آخر مرجاتے ہیں۔غرض یہ سلسلہ قطع وبرید کا دنیا میں ایسا جاری ہے جو ہر آن انسانوں کو سبق دیتا رہتا ہے کہ دنیا ہمیشہ رہنے ک جگہ نہیں۔پس یہ بھی ایک دلیل اس زمانہ کی آمد پر ہے۔ (۳)علاوہ ازیں اس زمانہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بھی دلیل پیش کی ہے اور وہ انبیا کے قہری معجزات ہین جن کے باعث ایک ہی وقت میں دنیا کے تختے الٹ دئیے گئے اور خلقت کا نام ونشان تک مٹا دیا گیا۔انسان اللہ تعالیٰ کے قہر کے ہاتھ میں ہے۔وہ جب چاہے اسے نابود کر دے۔اسی امر کو اللہ تعالیٰ نے