ہو گی۔پس میرا یہ اصول رہا ہے کہ ایسی کتاب کا جواب دیا جائے اور گورنمنٹ کی ایک سچی امداد یعنی آزادی سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسا شافی جواب دیا جائے کہ خود ان کو اس کی اشعت کرتے ہوئے ندامت محسوس ہو۔دیکھو جیسے ہمارے مقدمہ ڈاکٹر کلارک میں ان کو جب معلوم ہو گیا کہ مقدمہ میں جان نہیں رہی اور مصنوعی جادو کا پتلا ٹوٹ گیا ،تو انہوں نے آتھم کی بیوی اور داماد جیسے گواہ بھی پیش نہ کیے۔پس میری رائے یہی ہے اور میرے دل کا فتویٰ یہی ہے کہ اس کے دندان شکن جواب نہایت نرمی اورملاطفت سے دیا جائے۔پھر خدا چاہے گا تو ان کو خود ہی جرات نہ ہو گی۔ ؎۱ ۲ مئی۱۸۹۸؁ء بروز عید مقام قادیان زیر درخت بڑ۔جانب شرقیہ۔بعد نماز عید بتقریب جلسہ طاعون۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مندرجہ ذیل تقریر فرمائی۔ دنیا فانی ہے آپ سب صاحبوں کو معلوم ہے کہ اللہ جلہ شانہ نے قرآن شریف میں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حدیث میں بھی فرمایا ہے کہ ایک زمانہ  ایسا گزرا ہے کہ انسان ، حیوان،چرند،پرند،زمین آسمان اور جو کچھ بھی زمین وآسمان میں ہے کسی چیز کا نام ونشان بھی نہ تھا۔صرف خدا ہی تھا۔یہ اسلام کا عقیدہ ہے۔ولم یکن معہ شئی۔یعنی خدا کے ساتھ اور کوئی چیز نہ تھی۔ہم کو اس نے قرآن اور حدیث کے ذریعہ خبر دی ہے کہ ایک زمانہ اور بھی آنے والا ہے۔جب کہ خدا کے ساتھ کوئی نہ ہو گا۔وہ زمانہ بڑا خوفناک زمانہ ہے،کیونکہ اس پر ایمان لانا ہرمومن اور ہرمسلمان کاکام ہے۔جو شخص اس پر ایمان نہیں لاتا،وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔اور بے ایمان ہے۔جس طرح سے بہشت،دوزخ،انبیا اور کتابوں وغیرہ پر ایمان لانے کا حکم ہے۔ویسا ہی اس ساعت پر ایمان لانا لازم ہے۔جبکہ نفخ صور ہو کر سب نیست ونوبود ہو جائیں گے۔یہ سنت اللہ اور عادت اللہ ہے۔ آخرت کے وجود پر تین دلائل اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ کو سمجھانے کے لئے تین طریق اختیار فرمائے ہیں : ایک یہ کہ انسان کو عقل دی ہے کہ اگر وہ اس سے ذرا بھی کام لے تو اور غور کرے،تو یہ امر نہایت صفائی سے ذہن میں آسکتا ہے کہ انسان کی مختصر سی زندگی دو عدموں کے درمیان واقع ہے۔کبھی بھی ہمیشہ کے لئے باقی نہیں