نے *** کی اور کہا کہ جھوٹا ہے۔ اصل میں روپیہ دینا نہیں چاہتا۔ جب شام کے وقت وہ بزرگ گھر گیا۔ تو وہ شخص ہزار روپیہ لے کر اس کے گھر آیا اور کہا کہ آپ نے میری سر عام تعریف کر کے مجھے محروم ثواب آخرت کیا، اس لیے میں نے یہ بہانہ کیا۔ اب یہ روپیہ آپ کا ہے ،لیکن آپ کسی کے آگے نام نہ لیں بزرگ۔ رو پڑا اور کہا کہ اب تو قیامت تک مورد لعن وطعن ہوا ،کیونکہ کل کا واقعہ سب کو معلوم ہے اور یہ کسی کو معلوم نہیں کہ تو نے مجھے روپیہ واپس کر دیا ہے۔ ایک متقی تو اپنے نفس امارہ کے بر خلاف جنگ کر کے اپنے خیال کو چھپاتا ہے اور خفیہ رکھتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ اس خفیہ خیال کو ہمیشہ ظاہر کر دیتا ہے۔ جیسا کہ ایک بد معاش کسی بد چلنی کا مرتکب ہو کر خفیہ رہنا چاہتا ہے، اسی طرح ایک متقی چھپ کر نماز پڑھتا ہے اور دوڑتا ہے کہ کوئی اس کو دیکھ لے۔سچا متقی ایک قسم کا ستر چاہتا ہے۔ تقویٰ کے مراتب بہت ہیں ،لیکن بہر حال تقویٰ کے لئے تکلف ہے اور متقی حالت جنگ میں ہے اور صالح اس جنگ سے باہر ہے۔ جیسے کہ میں نے مثال کے طور پر اوپر ریاء کا ذکر کیا ہے جس سے تقویٰ کو آٹھواں پہر جنگ ہے۔ ریاء اور حلم کا جنگ بسا اوقات ریاء اورحلم کا جنگ ہو جاتا ہے۔ کبھی انسان کا غصہ کتاب اللہ کے بر خلاف ہوتا ہے۔گالی سن کر اس کا نفس جوش مارتا ہے۔ تقویٰ اس کو سکھلاتا ہے کہ وہ غصہ کرنے سے بعض رہے۔جیسے قرآن کہتا ہے:وَاِذَا مَرُّوْ بِاللَّغْوِ مَرُّوْ کِرَاماً (الفرقان۷۳)ایسا ہی بے صبری کے ساتھ اسے اکثر جنگ کرنا پڑتاہے۔بے صبری سے مراد یہ ہے کہ اس کو راہ تقویٰ میں اس قدر دقتوں کا مقابلہ ہے کہ مشکل سے وہ منزل مقصود تک پہنچتا ہے، اس لئے بے صبر ہو جاتا ہے۔ مثلاًایک کنواں پچاس ہاتھ تک کھودنا ہے۔ اگر دو چار ہاتھ کے بعد کھودنا چھوڑ دیا جاے، تو محض یہ ایک بد ظنی ہے۔ اب تقویٰ کی شرط یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ نے احکام دئے ،ان کو اخیر تک پہنچائے اور بے صبر نہ ہو جاوے۔ راہ سلوک میں مبارک قدم دو گروہ ہیں راہ سلوک میں مبارک قدم دو گروہ ہیں۔ایک دین العجائز والی جو موٹی موٹی باتوں پر قدم مارتے ہیں۔ مثلاً احکام شریعت کے پابند ہو گئے اور نجات پا گئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے آگے قدم مارا۔ ہر گز نہ تھکے اور چلتے گئے؛ حتیٰ کہ منزل مقصود تک پہنچ گئے، لیکن نامراد وہ فرقہ ہے کہ دین العجائز سے تو قدم آگے رکھا ،لیکن منزل سلوک کو طے نہ کیا۔ وہ ضرور دہریہ ہو جاتے ہیں ۔ جیسے بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو نمازیں بھی پڑھتے رہے ۔چلہ کشیاں بھی کیں، لیکن فائدہ کچھ نہ ہوا۔ جیسے ایک شخص منصور مسیح نے بیان کیا کہ اس کی عیسایت کا باعث یہی تھا کہ وہ مرشدوں کے پاس گیا ،چلہ کشی کرتا رہا،لیکن فائدہ کچھ نہ ہوا،تو بد ظن ہو کر عیسائی ہو گیا۔ صدق و صبر سو جو لوگ بے صبری کرتے ہیں، وہ شیطان کے قبضے میں آجاتے ہیں۔ سو متقی کو بے صبری کے ساتھ بھی جنگ ہے۔ بوستان میں ایک عابد کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب کبھی وہ عبادت کرتا