موافق نہیں چلتی۔تمناوں کا سلسلہ اور ہے۔قضاو قدر کا سلسلہ اور ہے۔اور وہی سچا سلسلہ ہے۔خدا کے پاس انسان کے سوانح سچے ہیں۔اسے کیا معلوم ہے کہ اس میں کیا لکھا ہے۔اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہیے۔ توحید کا ایک پہلو توحید کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھا دے اور اپنے وجود کو اس کی عظمت  میںمحو کر دے۔ ؎۱ یکم مئی۱۸۹۸؁ء خلاف اسلام کتابوں کی ضبطی ’’جناب مولونا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے وہ میموریل پڑھ چکنے ے بعد جوحضرت مسیح موعود ؑ نے  انجمن حمایت اسلام کے میموریل دربارہ ’’امہات المومنین‘‘کی اصلاح کی غرض سے لکھا تھا۔ حضرت اقدس نے بآواز بلند فرمایا:‘‘ ’’چونکہ یہ میموریل اسلام اور اہل اسلام کی حمایت اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سچی عزت اور قرآن کریم کی عظمت کو قائم کرنے اور اسلام کی پاکیزہ اور اصفیٰ شکل دکھانے کے لئے لکھا گیا ہے،اس لئے اس کو آپ صاحبان کے سامنے پڑھے جانے سے صرف یہ غرض ہے کہ تا آپ لوگوں سے بطور مشورہ دریافت کیا جائے کہ آیا مصلحت وقت یہ ہے کہ کتاب کا جواب لکھا جائے یا میموریل بھیج کر گورنمنٹ سے استدعا کی جائے کہ وہ ایسے منصفین کی سرزنش کرے اور اشاعت بند کر دے۔پس آپ لوگوں میں سے جو کوئی اس پرنکتہ چینی کرنا چاہے،تو وہ نہایت آزادی اور شوق سے کر سکتا ہے۔‘‘ (مجمع میں سے)’’ایک شخص بولا کہ اگر کتاب کی اشاعت بند نہ ہوئی تو پھر ہمیشہ تک طبع ہوتی رہے گی۔‘‘ اس پرحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’ اگر ہم واقعی طور پر کتاب کی اشاعت بند نہ کرین جو اس کے رد کرنے کی صورت میں ہو سکتی ہے،تو گورنمنٹ سے ایک بار نہیں ہزار بار اس قسم کی مدد لے کر اس کی اشاعت بند کر دی جائے،تو وہ رک نہیں سکتی۔اگر اس تھوڑے عرصے کے لئے وہ برائے نام بند بھی ہو جائے،تو پھر بھی بہت سی کمزور طبیعت کے انسان اور بعض آنے والی نسلوں کے لئے یہ تجویز زہر قاتل ہو گئی۔کیونکہ جب ان کو معلوم ہو گا کہ فلاں کتاب کا جواب جب مسلمانوں سے نہ ہو سکا تو اس کے لئے گورنمنٹ سے بند کرانے کی کوشش کی ۔اس سے ایک قسم کی بد ظنی ہمارے مذہب کی نسبت پیدا