فروری۱۸۹۸ء
آخرت پر نظر رکھنے والے ہمیشہ مبارک ہیں میں دیکھتا ہوں کہ باوجود مصائب پر مصائب آنے کے اور ہر طرف خطرہ
ہیخطرہ دکھائی دینے کے لوگ ابھیتک سنگدلی اور عجب ونخوت سے کام لے رہے ہیں۔نادان کب تک اس بے فکری میں زندگی بسر کریں گے۔تا وقتیکہ لوگ جد نہیں چھوڑتے۔اپنی بری کرتوتوں سے بعض نہیں آتے اور خدا تعالیٰ سے مصالحت نہیں کرتے،یہ بلائیں اور مصیبتیں دور نہیں ہونے کی ۔میں نے دیکھا ہے اور خوب غور کیا ہے کہ قحط کے دنوں میں لوگوں نے ذرا بھی قحط کی مصیبت کو محسوس نہیں کیا ۔شراب خانے اسی طرح آباد تھے اور بد کاریوں اور بد معاشیوں کے بازار برابر گرم تھے۔ابتدا میں جب کوئی برائے نام فتویٰ مکہ مدینہ کے نام سے آجایا کرتا تھا۔تو لوگ ڈر جایا کرتے تھے اور مسجدیں آباد ہو جاتیں تھیں،مگر اس وقت شوخی اور بیبا کی حد سے بڑھ چلی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی فضل کرے۔
عقلمند وہ ہے جو عذاب آنے سے قبل اس کی فکر کرتا ہے اور دور اندیش وہ ہے جو مصیبت سے پہلے اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔
انسان کو یہی لازم ہے کہ آخرت پر نظر رکھ کر برے کاموںسے توبہ کرے،کیونکہ حقیقی خوشی اور سچی راحت اسی میں ہے۔یہ ایک یقینی امر ہے کہ کوئی بد کاری اور گناہ کا کام ایک لحظہ کے لئے بھی سچی خوشی نہیں دے سکتا۔بدکار،بدمعاش کو تو ہر دم اظہار راز کا خطرہ لگا ہوا ہے۔پھر وہ اپنی بد عملیوں میں راحت کا سامان کہاں دیکھے گا۔آخرت پر نظر رکھنے والے ہمیشہ مبارک ہیں۔ ع
مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست
دیکھو ان قوموں کا حال جن پر وقتاً فوقتاً عذاب آئے۔ہر ایک کو یہی لازم ہے کہ اگر دل سخت بھی ہو تو اسے ملامت کر کے خشوع خضوع کا سبق دے۔رونا اگر نہیں آتا،تو رونی صورت بنا دے۔پھر خود بخود آنسو بھی نکل آئیں گے۔
اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں ہماری جماعت کے لئے سب سے ضروری ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں،کیونکہ ان
کو تازہ معرفت ملتی ہے اور اگر معرفت کا دعویٰ کر کے اس پر نہ چلے۔تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔پس ہماری جماعت کو دوسروں کی سستی غافل نہ کر دے۔اور اس کو کاہلی کی جرات نہ دلا دے۔وہ ان کی محبت سخت دیکھ کر خود کو بھی سخت نہ کر لے۔
انسان بہت آرزوئیں اور تمنائیں رکھتا ہے۔مگر غیب کی قضا وقدر کی کس کو خبر ہے۔زندگی آرزوں کے