ابو لہب اور حمالۃ الحطب سے مراد ابولہب قرآن کریم میں عام ہے نہ خاص ۔مراد وہ شخص ہے جس میں الہتاب واشتعال کا مادہ ہو۔ اسی طرح حمالۃالحطب۔ہیزم کش عورت سے مراد ہے۔جو سخن چین ہو۔آگ لگانے والی چغلخور عورت آدمیوں میں شرارت کو بڑھاتی ہے۔سعدی کہتا ہے ؎ سخن چین بد بخت ہیزم کش است سورۃ تبت پر اعتراض سن کر فرمایا دنیا کی دولت اور سلطنت رشک کا مقام نہیں ۔مگر رشک کا مقام دعا ہے۔میں نے اپنے احباب  حاضرین کے لئے جن کے نام یاد آئے یا شکل یاد آئی۔آج بہت دعا کی اور اتنی دعا کی کہ اگر خشک لکڑی پر کی جاتی تو سر سبز ہو جاتی۔ہمارے احباب کے لئے یہ بڑی نشانی ہے۔ رمضان کا مہینہ الحمد للہ گزر گیا ۔عافیت اور تندرستی سے یہ دن حاصل رہے۔پھر اگلا سال نجانے کس کو آئے گا ۔کس کو معلوم ہے کہ اگلے سال کون ہو گا ۔پھر کس قدر افسوس کا مقم ہو گا ۔اگر اپنی جماعت کے ان لوگوں کو فراموش کر دیا جاوے جو انتقال کر گئے ہیں۔یہ ایسے وقت میں فرمایا کہ جب فہرست میں زندوں کے نام ثبت ہو رہے تھے۔ ظاہر پرستی گمراہی کا موجب ہے ظاہر پرستی سے یہود گمراہ ہو گئے۔ظاہر پرستی سے یہودیوں پر یہ آفت آئی کہ وہ مسیح علیہم السلام کا نکار  کرتے رہے اور نہ صرف یہی بلکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا بھی انکار کرتے رہے۔ان کا یہ خیال تھا کہ مسیح آئے گا تو ایک بادشاہ ہو کر آئے گا۔اور بڑی شان وشوکت سے تخت دود پر جلوہ افروز ہو گا اور اس کے آنے سے پیشتر ایلیا آسمان سے اترے گا،مگر جب مسیح آیا۔تو اس نے ایلیا تو یوحنا کو بتایا اور آپ بجائے بادشاہ ہونے کے ایسی عاجزی دکھائی کہ سر رکھنے کو بھی جگہ نہ ملی۔اب ظاہر پرست یہودی کیونکر مان لیتے۔پس انہوں نے برے زور سے انکار کیا اور اب تک کر رہے ہیں۔یہی مصیبت ہمارے زمانہ کے مولویوں اور ملاوں کو پیش آئی۔وہ منتظر ہیں کہ مسیح اور مہدی آکر لڑائیاں کرے گا،مگر خدا تعالیٰ نے یہ امر ہی ملحوظ نہ رکھا تھا اور بخاری نے یضع لحرب کہہ کر اس کا قضیہ ہی چکا دیا تھا۔یہ امن اور سلامتی کے خواستگار کو ماننا نہیں چاہتے۔ ؎۱