کیا جاوے۔ان کا نبی ہونا ہی سب سے بڑی خصوصیت ہے جو اور لوگوں میں موجود نہیں۔
خدا کا تلون رحمت ہے خدا کا تلون رحمت ہے۔دیکھو یونس علیہ السلام کی قوم کے معاملے میں قطعی الہام دے کر جب لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کیاتوعذاب ٹلا دیا اور رحمت کے ساتھ ان پر نگاہ کی۔پس خدا کیتلون میں بھی ایک خاص لطف ہے،مگر اس کو وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں،جو اس کے سامنے روتے اور عجز ونیاز ظاہر کرتے ہیں۔مجھے بار ہا تعجب آتا ہے کہ انسان اپنے جیسے انسان کی خوشامد تو کرتے ہیں،مگر افسوس کہ خدا کی خوشا مد نہیں کرتے ۔
قبولیت دعا میں توقف کامیابی کا موجب ہے، یہ یاد رکھو کہ اگر جوب کے لئے جلدی جواب مل جاوے تو عموماً
اچھا نہیں ہوتا ۔پس دعا کرتے نہ امید نہ ہو ۔دعا میں جس قدر دیر ہو اس کا بظاہر کوئی جواب نہ ملے تو خوش ہو کر سجدہ ہائے شکر بجا لاو۔کیونکہ اس میں بہتری اور بھلائی ہے۔توقف کامیابی کا موجب ہوتا ہے۔
یونس علیہ السلام کی قوم سے عذاب ٹلنے کی وجہ دعا بہت بڑی سپر کامیابی کے لئے ہے۔یونس کی قوم گریہ وزاری اور دعا
کے سبب آنے والے عذاب سے بچ گئی۔میری سمجھ میں محاتبت اور مغاضبت کو کہتے ہیں اور حوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی ۔پس یونس کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے کی وجہ سے ا کو شکوہ اور شکایت کا گمان گزرا کہ پیش گوئی اور دعا یوں ہی رائیگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی۔پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے۔اور رونا دھونا اور صداقت فرد داد جرم کو بھی ردی کر دیتے ہیں۔اصول خیرات اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کے لئے ہیں۔علم التعبیر الرویا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔اس لئے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق قثبات دکھاتا ہے۔اصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل وقال سے کچھ نہیں بنتا ،جب تک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جاوے۔صدقہ اس کو اسی لئے کہتے ہیں کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔حضرت یونس کے حالات میں در منشور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا ۔تجھے رحم کیا جائے گا ع
ایںمشت خاک راگر نہ بخشم چہ کنم
نماز عید شہر میں پڑھنے کی تعبیر منشی رستم علی کورٹ انسپکٹر دہلی کے خواب کی تعبیر میں فرمایا کہ نماز عید شہر میں پڑھنا بہت بڑی کامیابی ہے۔