حضرت اقدس کی پاک باتیں
۲۴ فروری ۱۸۹۸ء
مرید اور مرشد کا تعلق فرمایا:’’مرید ومرشد کے تعلقات ایسے ہوتے ہیںکہ ماں باپ اولاد کو اتنا عزیز نہیں سمجھتے،جتنا مرشد مرید کو جانتا ہے۔
ماں باپ جسمانی تربیت اور تعلیم کے لئے کوششیں کرتے ہیں،مگر مرشد مرید کی روحانی پیدائش کو موجب ہو تا ہے اور اس کی اندرونی تعلیم اور تربیت کا ذمہ دار ہو تا ہے بشر طیکہ راستباز ہو ۔اگر ریا کار اور دھوکہ باز ہو تو دشمن سے بھی بد تر ہوتا ہے۔‘‘ ؎۱
فروری۱۸۹۸ء
کثرت ازواج کثرت ازواج کے متعلق صاف الفاظ قرآن کریم میں دودو ،تین تین،چار چار کر کے آرہے ہیں مگر اسی آیت میں اعتدال کی بھی ہدایت
ہے۔اگر اعتدال نہ ہو سکے اور محبت ایک طرف زیادہ ہو جائے یا آمدنی کم ہو اور یا قوائے رجولیت ہی کمزورہوں تو پھر ایک سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے کہ انسان اپنے تئیں ابتلاء میں نہ ڈالے،کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :ان اللہ لا یحب المعتدین(البقرہ:۱۹۱)
غرض اگر حلال کو حلال سمجھ کر انسان بیویوں کا ہی ہو جائے ،تو بھی غلطی کرتا ہے۔ہر ایک شخص اللہ تعالیٰ کی منشاء کو نہیں سمجھ سکتا۔اس کا یہ منشاء نہیں کہ بالکل زن مرید ہو کر نفس پرست ہی ہو جائو اوروہ یہ بھی نہیں چاہتا کہ رہبانیت اختیار کرو بلکہ اعتدال سے کام لو اور اپنے تئیں بے جا کار روائیوں میں نہ ڈالو۔
انبیاء علیہم السلام کے لئے کوئی نہ کوئی تخصیص اگر اللہ تعالیٰ کر دیتا ہے،تو یہ کوتاہ اندیش لوگوں کی ابلہ فریبی اور غلطی ہے کہ اس پر اعتراض کرتے ہیں۔دیکھو تورایت میں کاہنوں کے فرقے کے ساتھ مراعات ملحوظ رکھی گئی ہیں۔اور ہندوؤں کی برہمنوں کے لئے خاص رعائتیں ہیں۔پس یہ نادانی ہے کہ انبیا ء علیہم السلام کی کسی تخصیص پر اعتراض